لاڑکانہ: لاڑکانہ کے قریب ماہوٹا تھانے کی حدود سندھ گرین کالونی میں مغیری برادری کے دو گروہوں کے درمیان جاری پرانے تنازع پر مسلح افراد نے گھر میں گھس کر سوئے ہوئے اہل خانہ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گھر کی بزرگ خاتون 55 سالہ زرینہ خاتون مغیری، ان کا 36 سالہ بیٹا ضمیر، 28 سالہ روشن اور صائمہ مغیری موقع پر جاں بحق ہو گئے، جبکہ بندہ علی اور 3 سالہ بچی کجلی مغیری شدید زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور واقعے کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو ٹراما سینٹر منتقل کر دیا۔
اس حوالے سے مقتولین کے ورثا کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات دیر گئے غلام نبی مغیری اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ گھر پر حملہ آور ہوا اور ہمارے چار افراد کو قتل جبکہ ایک بچی سمیت دو افراد کو زخمی کر کے فرار ہو گیا۔
ورثا نے لاڑکانہ کے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب ماہوٹا تھانے کی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ پرانے تنازع کا نتیجہ ہے، لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دو سال قبل مغیری برادری کے اصغر علی مغیری قتل ہو گئے تھے، جس مقدمے میں مقتول فریق کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا، جس کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان مسلسل کشیدگی جاری تھی، اور اسی تنازع کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
0 تبصرے