خضدار: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سرحدی راستوں کی بحالی کے بعد ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے، تاہم خضدار میں اب بھی قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی پیٹرول مختلف نرخوں پر فروخت ہونے کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں اطلاعات کے مطابق چاندنی چوک، عمر فاروق چوک، کرخ روڈ اور بعض دیگر مقامات پر ایرانی پیٹرول کی قیمت 380 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 280 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مزید کمی کی بھی توقع ظاہر کی جارہی ہے اس کے برعکس شہر کے بیشتر پیٹرول پمپ اور دکاندار اب بھی 340 سے 350 روپے فی لیٹر کے حساب سے پیٹرول فروخت کررہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود یکساں نرخ مقرر نہ ہونے کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق متعدد دکاندار اور پیٹرول پمپ نرخ نامے آویزاں نہیں کرتے، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر مختلف قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔ بعض شہریوں نے شکایت کی ہے کہ چند مقامات پر اب بھی 360 سے 380 روپے فی لیٹر تک پیٹرول فروخت کیا جارہا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کے دور میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا براہِ راست فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی پیٹرول کے لیے سرکاری اور یکساں نرخ مقرر کیے جائیں، روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی نگرانی کی جائے اور سرحد سے خضدار تک جائز منافع کے ساتھ نرخوں کا تعین یقینی بنایا جائے عوام نے مزید مطالبہ کیا کہ تمام دکانداروں اور پیٹرول فروخت کرنے والوں کو نرخ نامے نمایاں طور پر آویزاں کرنے کا پابند بنایا جائے اور مقررہ نرخوں سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو بلاجواز مہنگے داموں پیٹرول خریدنے سے نجات مل سکے۔
0 تبصرے