مشرقِ وسطیٰ میں جنگی خطرات، متحدہ عرب امارات کا بھارت سے براہموس میزائل اور آکاش تیر نظام خریدنے پر غور

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی خطرات، متحدہ عرب امارات کا بھارت سے براہموس میزائل اور آکاش تیر نظام خریدنے پر غور

دبئی (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگی خطرات اور سیکیورٹی خدشات کے بعد United Arab Emirates نے اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھارت سے جدید ہتھیار خریدنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان BrahMos سپر سونک کروز میزائل کی خریداری کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم اس پر تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھارت کے فضائی دفاعی نظام Akashteer میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ بھارتی حکام اور Ministry of Foreign Affairs of the United Arab Emirates نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ براہموس میزائل بھارت اور Russia کا مشترکہ منصوبہ ہے، جسے دنیا کے تیز ترین کروز میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے زمین، سمندر اور فضا سے فائر کیا جا سکتا ہے۔ آکاش تیر ایک خودکار فضائی دفاعی نظام ہے، جسے Bharat Electronics Limited اور بھارتی فوج کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایرانی حملوں کے بعد اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کے منصوبوں میں تیزی لائی ہے، جبکہ Strait of Hormuz جیسے اہم تجارتی گزرگاہ کے تحفظ کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق براہموس میزائل کی ممکنہ فروخت کے لیے روس کی منظوری بھی ضروری ہوگی، کیونکہ یہ بھارت اور روس کا مشترکہ منصوبہ ہے، تاہم روس اور متحدہ عرب امارات کے قریبی تعلقات کے باعث اسے کوئی بڑی رکاوٹ نہیں سمجھا جا رہا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاس پہلے ہی امریکی ساختہ MGM-168 ATACMS میزائل، THAAD اور Patriot Missile System جیسے جدید دفاعی نظام موجود ہیں۔ اگرچہ بھارت کے ہتھیاروں کی برآمد سے متعلق کئی معاہدے ماضی میں مکمل نہیں ہو سکے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ ایسے دفاعی معاہدوں کے امکانات اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔