وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں محرم الحرام 1448ھ کے سلسلے میں مجالس عزا اور جلوسوں کا انعقاد مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ شہر بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں
1. مرکزی جلوس: 9 اور 10 محرم کو امام بارگاہ اثنا عشری G-6/2 سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں ہزاروں عزاداروں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کی۔
2. مجالس عزا:G-6، G-7، I-10، اور بھارہ کہو کی امام بارگاہوں میں مجالس کا سلسلہ جاری ہے۔ علمائے کرام واقعہ کربلا کی روشنی میں صبر، قربانی اور حق کا درس دے رہے ہیں۔
3. سبیل و لنگر: شہر کے مختلف مقامات پر نیازِ امام حسینؑ کی سبیلیں اور لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ رضاکاروں نے عزاداروں میں شربت، پانی اور کھانا تقسیم کیا۔
سکیورٹی انتظامات:
اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے محرم کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان نافذ کیا ہے۔
• 5000 سے زائد پولیس اہلکار اور رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔
• جلوسوں کے راستوں پر CCTV کیمرے* اور واک تھرو گیٹس نصب ہیں۔
• موبائل سروس 9 اور 10 محرم کو حساس علاقوں میں جزوی طور پر معطل رہی۔
ٹریفک پلان: شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا اعلان کیا گیا۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس نے سوشل میڈیا پر اپ ڈیٹس جاری کیں۔
انتظامیہ کا بیان:
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور امن کمیٹیوں کے تعاون سے محرم پر امن طریقے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔
یوم عاشور: 10 محرم الحرام کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں عام تعطیل تھی۔ صدر، وزیراعظم اور دیگر رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
محرم الحرام کے دوران بین المسالک ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے جید علماء مسلسل رابطے میں ہیں۔
0 تبصرے