میہڑ: مبینہ طور اغوا ہونے والی معصوم بچی اجالا سولنگی 24 دن گزرنے کے باوجود بازیاب نہ ہو سکی

اجالا سولنگی کی والدہ روتے روتے نڈھال، بازیابی کے لیے قائم کیمپ 8 دن سے جاری

میہڑ: مبینہ طور اغوا ہونے والی معصوم بچی اجالا سولنگی 24 دن گزرنے کے باوجود بازیاب نہ ہو سکی

میہڑ: گھنٹہ گھر چوک پر اغوا ہونے والی بچی اجالا پروین سولنگی کو 24 دن گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جا سکا، جبکہ اس کی بازیابی کے لیے لگایا گیا احتجاجی کیمپ 8 دن سے جاری ہے مگر بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ بچی اجالا پروین سولنگی کی صحیح سلامت واپسی کے لیے اس کی والدہ، دادی اور نانی نے قرآن پاک اٹھا کر روتے ہوئے سندھ حکومت، علاقے کے منتخب نمائندوں اور دادو پولیس سے اپیل کرتے ہوئے بچی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ 24 دن گزرنے کے بعد بھی بچی گھر واپس نہ آنے پر اس کی والدہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گئی ہے۔ میہڑ کے گھنٹہ گھر چوک پر 8 دن سے جاری احتجاجی کیمپ میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات بھی پہنچیں، جن میں جمعیت علماء اسلام ضلع دادو کے جنرل سیکریٹری، جماعت اسلامی ضلع دادو کے رہنما، سولنگی ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے چیئرمین، اساتذہ اور دیگر سماجی و سیاسی رہنما شامل تھے۔ انہوں نے بچی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے کہا کہ افسوسناک بات ہے کہ 24 دن گزرنے کے باوجود پولیس بچی کو بازیاب نہیں کرا سکی، ایس ایس پی دادو کی تشکیل کردہ کمیٹی کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور پولیس اس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی، جبکہ بچی کے والدین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایس پی دادو فوری اقدامات کرے اور بچی کو بازیاب کرا کر والدین کی بے چینی ختم کی جائے۔ بچی کے والد شمس الدین سولنگی نے ایک اہم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ آئندہ اتوار 10 مئی کو ایا ز کالونی سے گھنٹہ گھر چوک تک احتجاجی ریلی نکالیں گے اور سندھ کے تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ریلی میں شامل ہو کر بچی کی بازیابی کے لیے ساتھ دیں۔ دوسری جانب سولنگی برادری کے رہنماؤں نے ایس ایس پی دادو سے ملاقات کی اور بچی کے والد نے روتے ہوئے اپنی بیٹی کی فوری اور محفوظ بازیابی کی اپیل کی۔ ایس ایس پی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ بچی کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور جلد اسے بازیاب کرانے کی امید ہے۔