ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے، سیکیورٹی کارروائیوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں۔
ایران کے دارالحکومت تہران سمیت بڑے شہروں میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاج مزید پھیل گیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق مظاہرے اب ایران کے تمام 31 صوبوں میں 100 سے زائد شہروں تک پہنچ چکے ہیں، جہاں شہری سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 47 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ تقریباً ڈھائی ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ گزشتہ رات تہران اور مشہد میں مظاہرین نے بڑے پیمانے پر مارچ کیے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قوم سے خطاب میں اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ عناصر عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا۔
ایرانی حکومت نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی ریاستی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے اور بیرونی مداخلت کو روکے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی بیانات ہمدردی نہیں بلکہ داخلی بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کا آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور جائز عوامی مطالبات کو قانون کے دائرے میں حل کیا جائے گا۔
وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو درپیش معاشی مسائل کی بنیادی وجہ امریکہ کی غیرقانونی پابندیاں ہیں، جبکہ واشنگٹن ایران کے خلاف معاشی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور میڈیا جنگ بھی کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
0 تبصرے