گڏاپ کی 50 بستر والی اسپتال میں تنازع، سوال کرنے پر سماجی رہنما گرفتار پھر آزاد

گڏاپ کی 50 بستر والی اسپتال میں تنازع، سوال کرنے پر سماجی رہنما گرفتار پھر آزاد

ملیر (رپورٹ: عبدالرشيد مورجھريو) – گڏاپ میں قائم 50 بستر والی سرکاری اسپتال میں انتظامی امور پر سماجی رہنما اور اسپتال انتظامیہ کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا، جس کے نتیجے میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انیلا سولنگی نے علاقے کے سماجی رہنما زمان جوکيو کو پولیس کے ذریعے گرفتار کرایا۔ واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی بڑی تعداد گڏاپ تھانے پہنچی اور احتجاج درج کرایا، جس کے بعد زمان جوکيو کو رہا کردیا گیا۔ زمان جوکيو نے بتایا کہ انہوں نے اسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی، ادویات کی غیر دستیابی، بجلی کی بندش اور مبینہ بدانتظامی کے بارے میں سوال کیا، جس پر ایم ایس ناراض ہوگئیں اور سرکاری امور میں مداخلت اور بھتہ خوری کے الزامات لگا کر انہیں پولیس طلب کر لیا گیا۔ زمان جوکيو نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی رہائشی اور سماجی رہنما ہونے کے ناتے مریضوں کے ساتھ اسپتال گئے تھے، جہاں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جنریٹر چلانے کی کوشش کی، جس پر ایم ایس ناراض ہو گئیں اور پولیس کے حوالے کیا۔ گڏاپ تھانے پہنچنے پر علاقے کے معزز اور سماجی رہنما ظفر حمید نے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ سماجی رہنما کو تھانے میں بند کرنا افسوسناک عمل ہے اور ایم ایس کو اپنا رویہ بہتر بنانا چاہیے۔ ایس ایچ او گڏاپ نے دونوں فریقین سے بات چیت کی، جس کے بعد شام دیر گئے زمان جوکيو کو آزاد کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں بے چینی پھیل گئی ہے اور رہائشی اسپتال کے انتظامی امور کی شفاف جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔