امریکی اور اسرائیلی فوج میں اہلکاروں کی کمی، فوج کے اندر دراڑیں پڑنے کا خدشہ

امریکی اور اسرائیلی فوج میں اہلکاروں کی کمی، فوج کے اندر دراڑیں پڑنے کا خدشہ

تل ابیب / واشنگٹن (عوامی آواز رپورٹ) اسرائیلی فوج اس وقت اہلکاروں کی شدید کمی کا شکار ہے، جس پر آرمی چیف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے اعلیٰ حکام کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کے باعث فوج میں افرادی قوت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس کمی کو پورا نہ کیا گیا تو فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے اور مستقبل میں کسی معمولی مشن یا بڑی جنگی تیاری کے قابل بھی نہیں رہے گی۔ دوسری جانب امریکی فوج بھی افرادی قوت کے بحران سے گزر رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع نے غیر معمولی فیصلے کیے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق فوج میں بھرتی کے لیے عمر کی حد 35 سال سے بڑھا کر 42 سال کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ افراد بھی فوج میں شامل ہو سکیں گے جو ماضی میں منشیات کے استعمال کے الزام میں ایک بار گرفتار ہو چکے ہوں۔ ادھر پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید 10 ہزار فوجی خطے میں بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس اس حوالے سے آئندہ ہفتے فیصلہ کرے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بڑی تعیناتی ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاریوں کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، تاکہ جنگ کی صورت میں ایران کے اندر اہم اہداف پر قبضہ کیا جا سکے۔