آبنائے ہرمز پر کنٹرول نے ایران کو امریکا پر برتری دے دی

آبنائے ہرمز پر کنٹرول نے ایران کو امریکا پر برتری دے دی

واشنگٹن ؛ ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی برتری کی بڑی وجوہات سستے ڈرونز، سمندری بارودی سرنگیں اور اس کا اہم جغرافیائی محلِ وقوع ہیں۔ آبنائے ہرمز گزشتہ چار ہفتوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بند ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی بھیجنے اور تیل بردار جہازوں کے لیے بحری اسکارٹ فراہم کرنے کے امکان پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تمام صورتحال میں ایران کو کئی معاملات میں برتری حاصل ہے۔ اس کی کامیابی کی وجوہات میں سستے ڈرونز، سمندری بارودی سرنگیں اور اس کا جغرافیائی محلِ وقوع شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز اپنے تنگ ترین مقام پر صرف 24 میل چوڑی ہے اور زیادہ تر جہاز دو مرکزی شپنگ لینز سے گزرتے ہیں، جو اس راستے کو مزید محدود بنا دیتی ہیں۔ نیول فورسز اور میری ٹائم سیکیورٹی کے سینئر فیلو نک چائلڈز کے مطابق یہ مقام ایک حقیقی چوک پوائنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے چوک پوائنٹس موجود ہیں لیکن یہ اس لیے منفرد ہے کہ اس کا کوئی متبادل راستہ نہیں۔ ان کے مطابق تنگ راستہ ہونے کی وجہ سے جہازوں کے پاس راستہ بدلنے یا مڑنے کا آپشن نہیں ہوتا، جس سے وہ ایران کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار کیون رولینڈز کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا خطرناک علاقہ ہے جہاں حملے کی پیشگی اطلاع کے لیے صرف چند سیکنڈز ہوتے ہیں۔ ایران کی تقریباً 1000 میل طویل ساحلی پٹی اینٹی شپ میزائل حملوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جبکہ موبائل میزائل بیٹریاں انہیں تباہ کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔ شمالی ایرانی ساحل پہاڑوں، وادیوں، آبادیوں اور جزائر سے گھرا ہوا ہے، جو موبائل ہتھیاروں کو چھپانے میں ایران کی مدد کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا میزائل دفاعی نظام تجارتی جہاز رانی کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ایران کی جانب سے سب سے بڑا خطرہ غیر روایتی ہتھیاروں جیسے ڈرونز، تیز رفتار چھوٹی کشتیوں اور خودکار ہتھیاروں سے لیس بوٹس سے ہے۔ امریکا کے اتحادی ممالک جن میں برطانیہ، فرانس اور بحرین شامل ہیں، آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔