سندھ کی آڈٹ رپورٹ میں 908 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں سنگین سوالات اٹھاتی ہیں: تحریک انصاف

سندھ کی آڈٹ رپورٹ میں 908 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں سنگین سوالات اٹھاتی ہیں: تحریک انصاف

کراچی (رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے مالی سال 2024-25 کی سندھ آڈٹ رپورٹ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں 908 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 17 برس سے اقتدار میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کی حکمرانی اس آڈٹ رپورٹ کے بعد مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ بلدیات کے محکمے میں 210 ارب روپے کے مشکوک ٹھیکوں اور اضافی ادائیگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس محکمے کو مبینہ طور پر پارٹی فنڈ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری وسائل کو منظم انداز میں لوٹا گیا اور ترقیاتی منصوبے کمیشن کے عوض تقسیم کیے جاتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت میں 95 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور ادویات کی خریداری کو بھی مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ٹھیکے دے کر کرپشن کی جا رہی ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبپاشی میں 130 ارب روپے کے آڈٹ اعتراضات اور ادھوری اسکیموں کو مکمل ادائیگیوں کے ساتھ بدانتظامی کی بدترین مثال قرار دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر کے مطابق محکمہ تعلیم میں 75 ارب روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں اور گھوسٹ اسکولوں کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 78 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ کاغذات میں اربوں روپے کے اخراجات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ورکس اینڈ سروسز کے محکمے میں 160 ارب روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئی ہیں، جو ترقیاتی کاموں میں بڑے پیمانے پر کمیشن خوری کی عکاسی کرتی ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ توانائی اور خودمختار اداروں میں 120 ارب روپے کے مالی معاملات کو مشکوک قرار دیا گیا ہے اور سولر سسٹم کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ دیگر محکموں میں بھی اربوں روپے کے آڈٹ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب چند سو آڈٹ یونٹس میں 908 ارب روپے کے اعتراضات سامنے آئے ہیں تو مکمل آڈٹ کی صورت میں صورتحال کیا ہوگی؟ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کو پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں، مگر سرکاری کاغذات میں اربوں روپے کے اخراجات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔