ممبئی (ویب ڈیسک) تربوز کو گرم علاقوں میں رہنے والے لوگ گرمی سے بچنے کے لیے کھاتے ہیں، اسی لیے بھارت اور پاکستان میں اسے پسندیدہ پھل سمجھا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چند روز قبل بھارت کے شہر Mumbai میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد مبینہ طور پر تربوز کھانے کے بعد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد تربوز سے متعلق خبریں وائرل ہو رہی ہیں۔ جاں بحق افراد میں عبداللہ ڈوکادیہ، ان کی اہلیہ نسرین اور دو بیٹیاں عائشہ اور زینب شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کی اچانک موت کے بعد فارنزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ سامنے آئی، جس کے مطابق زنک فاسفائیڈ نامی کیمیکل مرنے والوں کے اندرونی اعضا مثلاً جگر، گردے اور تلی میں موجود تھا۔ یہ کیمیکل نہایت زہریلا ہوتا ہے جسے عام زبان میں ”چوہا مار دوا“ بھی کہا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممبئی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس پروین منڈے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فارنزک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ تمام اہلِ خانہ کے ٹیسٹ میں زنک فاسفائیڈ پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبارٹری رپورٹ کے بعد مزید تحقیقات جاری ہیں اور ماہرین و ڈاکٹروں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
0 تبصرے