ایرانی اور امریکی نمائندوں میں براہِ راست رابطے، جلد پاکستان میں ملاقات کا امکان

ایرانی اور امریکی نمائندوں میں براہِ راست رابطے، جلد پاکستان میں ملاقات کا امکان

تہران/واشنگٹن/تل ابیب (ویب ڈیسک) جرمن وزیر خارجہ یوهان واڈی فہول اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام بہت جلد پاکستان میں براہِ راست ملاقات کر سکتے ہیں، جس کے لیے 15 نکاتی امن فریم ورک پر بات چیت جاری ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی بمباری میں تہران اور قم میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، جس کے جواب میں ایران نے کویت، یو اے ای اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات کورونا وبا سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔


خطے میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہیں بھی نشانہ بنیں گی: ایرانی فوج

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی کا کہنا ہے کہ خطے میں جہاں جہاں امریکی فوجی قیام پذیر ہیں، ان ہوٹلوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم خاموش بیٹھ کر امریکیوں کو اپنے اوپر حملے کرنے دیں گے؟ ابوالفضل شکارچی کے مطابق جہاں بھی وہ موجود ہوں گے، ایران کو وہیں ان پر حملہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ اصفہان میں حساس معلومات لیک کرنے کے الزام میں 15 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق گرفتار افراد پر فوجی مقامات کی لوکیشنز لیک کرنے، حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔