ذیابیطس کے کئی مریضوں کو روزانہ انسولین کی انجیکشن لگانی پڑتی ہے تاکہ خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھا جا سکے۔
لیکن اب امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ایک گولی کی شکل کی دوا یہ ضرورت ختم کر دے گی۔
واضح رہے کہ ذیابیطس میں لبلبہ انسولین پیدا نہیں کر پاتا یا اس کی مقدار ناکافی ہوتی ہے۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح کو کم کرتا ہے، اور اسی وجہ سے مریضوں کو روزانہ انجیکشن لگانی پڑتی ہے۔
گزشتہ 100 سالوں سے سائنسدان انسولین کو گولی کی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ کام بہت مشکل ہے کیونکہ انسولین ایک پروٹین ہے اور اگر اسے گولی کے طور پر لیا جائے تو یہ معدہ اور آنتوں میں جذب ہو کر فعال اثر کھو دیتا ہے۔ اسی وجہ سے مریض انجیکشن پر منحصر رہتے ہیں۔
لیکن جاپان کی Kumamoto یونیورسٹی نے انسولین کی گولی بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔
ماہرین نے cyclic peptide کا استعمال کیا، جو چھوٹی آنت میں پہنچ کر انسولین کو فعال رکھتا ہے اور اسے گولی کی شکل میں فراہم کرنا ممکن بناتا ہے۔
محققین نے اس کے لیے دو مختلف طریقے اختیار کیے تاکہ انسولین کی گولی کی تیاری میں رکاوٹیں ختم کی جا سکیں:
پہلے طریقے میں peptide کو زنک کے ذریعے مستحکم انسولین میں ضم کیا گیا اور پھر اسے مریضوں کو منہ کے ذریعے دیا گیا۔ اس سے بلڈ شگر کی سطح معمول پر آئی اور ایک بار دوا لینے کے بعد تین دن تک انسولین کی سطح کنٹرول میں رہی۔
دوسرے طریقے میں peptide کو براہِ راست انسولین کے ساتھ جوڑا گیا، جس سے بھی بلڈ شگر کی سطح پہلے طریقے کی طرح کنٹرول میں رہی۔
محققین کے مطابق یہ تجربات ثابت کرتے ہیں کہ peptide کے ذریعے انسولین کی فراہمی ممکن ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق اور انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز ضروری ہیں تاکہ ایک مؤثر گولی تیار کی جا سکے۔
0 تبصرے