ٹرمپ کا ایران کی جانب سے 10 پاکستانی پرچم والے آئل ٹینکر چھوڑنے کا دعویٰ، حقیقت کیا ہے؟

ٹرمپ کا ایران کی جانب سے 10 پاکستانی پرچم والے آئل ٹینکر چھوڑنے کا دعویٰ، حقیقت کیا ہے؟

لندن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کابینہ اجلاس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکروں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے 10 ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایک "تحفہ" کے طور پر دی گئی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ "تیل سے بھرے آٹھ آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "میرے خیال میں یہ آئل ٹینکر پاکستانی پرچم والے تھے، میں نے کہا کہ ہم صحیح لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔" اس کے بعد امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ماضی میں کی گئی کسی بات پر معذرت کی اور کہا کہ "ہم دو مزید جہاز (آئل ٹینکر) بھیج رہے ہیں"، جس کے بعد جہازوں کی تعداد 10 ہو گئی۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عوامی طور پر دستیاب جہازوں کی آمد و رفت کے ڈیٹا کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ 23 اور 25 مارچ کے درمیان کون سے جہاز اپنے لوکیشن ٹرانسمیٹر کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے، کیونکہ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ جہاز انہی دنوں میں وہاں سے گزرے تھے۔ اس مدت کے دوران آبنائے سے تیل لے جانے والے پانچ جہازوں کی نشاندہی ہوئی، لیکن ان میں سے کسی پر بھی پاکستانی پرچم نہیں تھا۔ اس کے علاوہ مزید پانچ جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزرے، مگر ان میں سے کوئی بھی تیل بردار ٹینکر کے طور پر شناخت نہیں ہوا۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والوں کے مطابق ان جہازوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنا جی پی ایس سگنل عوامی طور پر نشر کرنا بند کر دیتے ہیں۔