جنیوا: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے جنیوا میں ایک پروگرام میں شرکت کی، جہاں وہ پاکستان مخالف بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما کے ساتھ بھی موجود تھے اور خطاب بھی کیا۔ اس کے بعد نئی بحث شروع ہو گئی اور قاسم خان کی سرگرمیوں اور تعلقات پر سوالات اٹھنے لگے۔
قاسم خان نے اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کونسل کے سائیڈ ایونٹ میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما نسیم بلوچ کے ساتھ خطاب کیا، جہاں انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بات کی اور اپنے والد عمران خان کی قید کا معاملہ بھی اٹھایا۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق دونوں شخصیات کی مشترکہ موجودگی پر مختلف حلقوں میں تنقید کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم کے بیٹے کا عالمی فورمز پر ایسے عناصر کے ساتھ بیٹھنا حساس معاملہ بن سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب قاسم خان کی پہلے بھی کچھ متنازع شخصیات سے ملاقاتوں کی خبریں آ چکی ہیں، جن میں عارف آجاکیا سے ملاقات بھی شامل تھی، جس پر بھی سخت تنقید ہوئی تھی۔
دوسری طرف ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا اور انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کیا، جسے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا گیا۔
سیاسی اور تجزیاتی حلقوں کے مطابق، ایسی سرگرمیاں نہ صرف ملک کے اندرونی سیاسی بیانیے کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور سفارتی مفادات پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی مختلف سفارتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
0 تبصرے