سندھ کی ادبی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جن کی پہچان صرف مصنف ہونے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے کردار، اخلاقی جرات، مزاحمت اور انسان دوستی کی وجہ سے بھی یاد رکھے جاتے ہیں۔ خورشید احمد قائمخانی انہی ناموں میں سے ایک تھے۔ وہ صرف کتابوں کے خالق نہیں تھے بلکہ ان لوگوں کی آواز تھے جو صدیوں سے سماجی ناہمواری کے باعث کچلے جاتے رہے، جن کے وجود کو ذات پات، مذہب اور طاقت کے بے رحم نظام نے ہمیشہ دبائے رکھا۔
بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں اردو ادب اور مقبول ناولوں میں فوجی جوان کو ایک رومانوی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ استری شدہ وردی، چمکتے ہوئے تمغے، چوڑا سینہ اور طاقت کا اظہار وقار سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسی دور میں ایک فوجی افسر ایسا بھی تھا جس کے نزدیک شان و شوکت صرف انسان کی عزت تھی۔ میجر خورشید قائمخانی نے رضاکارانہ طور پر فوج سے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ جب طاقت سیاست کے ساتھ ملتی ہے تو انسانیت کو روند ڈالتی ہے۔
خورشید قائمخانی 1933ء کے آس پاس راجستھان کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان سندھ ہجرت کر آیا اور ٹنڈو الہیار کو اپنا مسکن بنایا۔ فوجی خاندان سے تعلق ہونے کے باوجود ان کے اندر کا انسان فوجی نظم و ضبط اور اندھی اطاعت سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے نہ صرف میجر کے عہدے سے استعفیٰ دیا بلکہ اس سے وابستہ تمام مراعات بھی ٹھکرا دیں۔ یہ فیصلہ محض ذاتی نہیں بلکہ اخلاقی اور فکری مزاحمت کا اعلان تھا۔
فوج چھوڑنے کے بعد خورشید قائمخانی نے وہ راستہ چنا جس پر چلنے سے معاشرے کے اکثر لوگ گھبراتے ہیں۔ انہوں نے ان قبائل، برادریوں اور انسانی گروہوں سے رشتہ جوڑا جنہیں اچھوت، کم ذات، خانہ بدوش یا لاوارث کہہ کر معاشرے سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔ بھیل، کولہی، جوگی، باگڑی، شکاری اور دیگر بہت سے ایسے لوگ جن کے لیے ہوٹلوں میں الگ برتن رکھے جاتے تھے، جنہیں چھونا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا، وہی لوگ خورشید کے دوست، بھائی اور ساتھی تھے۔
ٹنڈو الہیار میں وہ نہ وڈیرہ تھے، نہ رئیس، نہ کسی قسم کے صاحبِ اختیار۔ وہ صرف “خورشید” تھے، ایسا سورج جو سب پر یکساں روشنی ڈالتا ہے۔ انہوں نے زمینداری کی مگر حساب کتاب کے بغیر۔ بٹائی میں جو کچھ ملا، قبول کر لیا، اور اس میں بھی اپنے ان ساتھیوں کا حصہ رکھا جن سے معاشرہ منہ موڑ لیتا تھا۔ یہ عمل نظریے سے بڑھ کر عملی انسان دوستی کا ثبوت تھا۔
خورشید قائمخانی کی ادبی شناخت بھی اسی انسانی رشتے سے جنم لیتی ہے۔ وہ خانہ بدوشوں، جپسیوں اور فراموش شدہ نسلوں کے لکھاری تھے۔ ان کی کتابیں “بھٹکتی نسلیں”، “سپنوں کا دیس”، “جوگی بستی”، “ماروی کی دنیا” اور “رنی کوٹ کا قلعہ” سماجی بشریات (Anthropology) کی زندہ دستاویزات ہیں۔ انہوں نے ان لوگوں کو ادب کا مرکز بنایا جنہیں تاریخ کے حاشیوں میں دھکیل دیا گیا تھا۔
ان کی خود نوشت اور تحریروں میں وطن، شناخت، جلاوطنی اور جدائی کے گہرے احساسات ملتے ہیں۔ وہ فوج کو سیاست سے الگ رکھنے کے حامی تھے، کیونکہ ان کے نزدیک طاقت کا سیاسی استعمال ملک کو انارکی کی طرف لے جاتا ہے۔ ان کے لیے وطن محض ایک زمینی سرحد نہیں بلکہ ماں کی آغوش جیسا احساس تھا، ایسا احساس جس کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
8 جنوری 2016ء کو خورشید قائمخانی اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کا فکر، محبت اور مزاحمت آج بھی زندہ ہے۔ وہ ان نایاب انسانوں میں سے تھے جو لفظوں سے بھی وضو کرتے ہیں اور عمل سے بھی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی عظمت عہدے، وردی یا طاقت میں نہیں بلکہ انسان کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے، خاص طور پر ان انسانوں کے ساتھ جنہیں معاشرہ بھلا چکا ہو۔ خورشید قائمخانی کا نام سندھ کی تاریخ میں ہمیشہ ایک ایسے انسان کے طور پر لکھا جائے گا جس نے طاقت کو چھوڑ کر انسانیت کو چُنا۔
0 تبصرے