وزیرستان کی وائرل بالر بچی کو زلمی ویمن لیگ کا حصہ بنانے کا اعلان

وزیرستان کی وائرل بالر بچی کو زلمی ویمن لیگ کا حصہ بنانے کا اعلان

چست رن اپ، سابق جنوبی افریقی فاسٹ بالر Dale Steyn جیسا ایکشن اور ہاتھ سے نکلتے ہی تیز رفتار گیند جو بیٹر کو پریشان کر دے — یہ مکمل پیکیج صرف 8 سالہ ننھی بالر آئینہ وزیر کے پاس ہے، جس کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے سابق کرکٹرز سمیت مقامی ٹیموں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ پاکستان کے سابق قبائلی ضلع North Waziristan سے تعلق رکھنے والی آئینہ وزیر نے وائرل ویڈیوز کی بدولت چند ہی دنوں میں بڑی شہرت حاصل کر لی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز Peshawar Zalmi کے مالک Javed Afridi نے اعلان کیا ہے کہ آئینہ کو زلمی ویمن لیگ کا حصہ بنایا جائے گا۔ جاوید آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا: “ماشاءاللہ آئینہ وزیر نہایت باصلاحیت کھلاڑی ہے اور وہ ایک اچھے پلیٹ فارم کی حقدار ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ آئینہ کو کرکٹ کا مکمل سامان اور سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنے ٹیلنٹ کو مزید نکھار کر آگے بڑھ سکے۔ چند روز قبل وائرل ہونے والی ویڈیو میں آئینہ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل شیوا کے علاقے شغا زلول خیل میں پہاڑوں کے درمیان فاسٹ بولنگ اور بیٹنگ کرتے دیکھا گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے آئینہ نے بتایا کہ اسے بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق ہے۔ اس کا کہنا تھا: “اب میری اپنی ٹیم بھی ہے اور ہم دو ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں۔” آئینہ کے مطابق اسے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار بیٹر Babar Azam کی بیٹنگ کا انداز پسند ہے، تاہم وہ خود بولنگ کرنا زیادہ پسند کرتی ہے کیونکہ اسے بیٹنگ میں اتنا مزہ نہیں آتا۔ آئینہ کے چچا منظور کا کہنا ہے کہ آئینہ کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں، مگر کرکٹ کا شوق صرف آئینہ کو ہے۔ محلے کے تمام بچے مل کر کرکٹ کھیلتے ہیں، آئینہ نے اپنا یونیفارم بھی خود تیار کیا ہے اور وہ اپنے طور پر ٹورنامنٹس بھی منعقد کرتے ہیں۔ زلمی ویمن لیگ کے عہدیدار احد خان کے مطابق ابتدائی طور پر آئینہ کو زلمی کی کٹ اور بیگ فراہم کیا جائے گا، جبکہ لیگ کے دوران اسے کوچنگ اور دیگر سہولیات بھی دی جائیں گی۔ پاکستان ویمن ٹیم کی کپتان Fatima Sana اور Aliya Riaz نے بھی آئینہ کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اس کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی وزیرستان ملک کا ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں ماضی میں دہشت گردی کے خلاف 2014 میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد حالات میں کچھ بہتری آئی، تاہم وقتاً فوقتاً واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے علاقے سے ایک کم سن بچی کا اس انداز میں ابھر کر سامنے آنا کئی لوگوں کے لیے حیرت اور خوشی کا باعث بنا ہے۔