واشنگٹن/تہران (ویب ڈیسک) ایک عرب سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے معاہدے کا مجوزہ مسودہ امریکا کو پیش کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرب سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا کو پیش کیے گئے مسودے کے مطابق ایران جوہری افزودگی 60 فیصد سے کم کر کے 3.6 فیصد تک لانے پر آمادہ ہے۔
سفیر کے مطابق ایران نے مستقبل میں جوہری افزودگی سات سال کے لیے معطل رکھنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا فی الحال صفر سطح تک جوہری افزودگی کا مطالبہ نہیں کر رہا، تاہم امریکا ایران کے موجودہ جوہری ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایران نے ملک میں موجود افزودہ یورینیم بیرونِ ملک بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران نے افزودہ یورینیم کو کم درجے تک ڈائلیوٹ کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ امریکا ایرانی جوہری پروگرام کو دس سال تک معطل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایرانی پیشکش امریکی مطالبات پورے کرنے کے لیے ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ قریب المدت عرصے میں ایران پر امریکی فوجی حملے کے امکانات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔
0 تبصرے