شمس جعفرانی، مصنف انعام شیخ، سماجی کارکن سورٹھ سندھُو، کالم نگار غازی صلاح الدین اور دیگر بھی موجود تھے
کراچی (رپورٹر) سابق وفاقی وزیر مارئی میمن نے گزشتہ شام کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کی تاریخی شناخت اور بیانیے کو درست انداز میں پیش کرنے اور اسے مضبوط و بااختیار بنانے کے لیے ایک نئے فورم کے قیام کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ دانوں کو سرحدوں سے بالاتر ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر فورم کے دیگر رہنماؤں میں سندھ حکومت کے ریٹائرڈ افسر شمس جعفرانی، مصنف انعام شیخ، سماجی کارکن سورٹھ سندھُو، کالم نگار غازی صلاح الدین اور دیگر بھی موجود تھے۔
مارئی میمن نے کہا کہ تاریخی غلط بیانی قوموں کے اتحاد کو کمزور کرتی ہے، اور افسوس ہے کہ سندھ کے تاریخی بیانیے کو درست اور متوازن بنانے کا کام جو سیاسی جماعتوں اور پالیسی ساز اداروں کو کرنا چاہیے تھا، وہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ شہر سندھ کا تاریخی حصہ ہے، اسے باقی سندھ سے الگ کرنے کی کوئی بھی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔ سندھ زبان ایک تاریخی وجود رکھنے والی زبان ہے، جسے قومی زبان کا درجہ دلانے کی کوشش جاری رہے گی۔ اسی مقصد کے تحت فورم کے سندھ باب کا آغاز کراچی سے کیا جا رہا ہے، جس کی بنیاد شاہ لطیف کی شاعری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فورم کی جانب سے سندھ کی تاریخی عمارتوں اور آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی جائے گی۔ سندھ کی جنگلی حیات، ماحول، لوک ادب، شاعری اور زبان کے تحفظ کے لیے حکومتِ سندھ سے مناسب بجٹ مختص کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔ اسی طرح سندھ کے تاریخی مقامات، سڑکوں اور شہروں کے قدیم نام بحال کرائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے تاریخی بیانیے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے سے نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کا بھی فائدہ ہوگا، اور اس مقصد کے لیے اس فورم کو مزید وسعت دی جائے گی۔
0 تبصرے