اسلام آباد: وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ملک بھر میں غیرقانونی سگریٹوں کی فروخت کے خلاف مؤثر اور سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں غیرقانونی سگریٹوں کی فروخت کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں کریں گی۔
پاکستان میں غیر قانونی سگریٹوں کی تجارت کے حوالے سے سے برطانیہ کی ریسرچ کمپنی آکسفورڈ اکنامکس کی ریسرچ رپورٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں غیرقانونی سگریٹ کی فروخت کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیرقانونی سگریٹس نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ دستاویزی معیشت کو بھی متاثر کرتے ہیں اور ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کا سبب بنتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف خود مختلف شعبوں میں ٹیکس معاملات کی خود نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ریونیو میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ سگریٹ کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر مکمل عملدرآمد کیا جا ہے گا ہے، جبکہ حکومت غیرقانونی سگریٹ تیار کرنے والی متعدد فیکٹریوں کو بند کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ غیرقانونی سگریٹ فروخت کرنے والے ریٹیلرز کے خلاف چھاپے بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر غیرقانونی برانڈز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور ان تمام اقدامات کا مقصد ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔
اس موقع پر اینڈریو لوگان، ڈائیریکٹر انڈسٹری کنسلٹنگ، آکسفورڈ اکنامکس، انگلینڈ نے ریسرچ رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غیرقانونی سگریٹ کی فروخت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں فروخت ہونے والے 54 فیصد سگریٹس غیرقانونی ہیں جبکہ سال 2025 کے دوران 5.43 ارب غیرقانونی سگریٹس فروخت ہوئے۔ ریسرچ رپورٹ کے مطابق غیرقانونی سگریٹ کی فروخت سے قومی معیشت کو سالانہ 274 سے 343 ارب روپے تک نقصان پہنچا، جبکہ مجموعی نقصان 300 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 2024 میں غیرقانونی سگریٹ مارکیٹ کا 64 فیصد حصہ ٹیکس ادائیگی کے بغیر فروخت ہونے والے مقامی سگریٹوں پر مشتمل تھا۔ رپورٹ میں بممزید بتایا گیا کہ مالی سال 2022 اور 2023 کے دوران سگریٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی میں 107 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قانونی سگریٹ کی قیمتیں 46 فیصد تک بڑھ گئ۔ ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کے باعث صارفین سستے، اسمگل شدہ اور بغیر ٹیکس ادا کیے گئے مقامی سگریٹوں کی جانب منتقل ہو گئے، جس سے غیرقانونی مارکیٹ کو فروغ ملا اور ٹیکس بڑھانے کی پالیسی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
سگریٹ سیکٹر میں نافذ کردہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام بھی مکمل طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا ہے اور اس وقت مارکیٹ میں دستیاب 477 سگریٹ برانڈز میں سے صرف 22 سگریٹ برانڈ پر ہی ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر مکمل طور پر نافذ ہو سکا ہے۔ عالمی تقابلی جائزے میں رپورٹ نے بتایا کہ پاکستان میں 43.5 ارب غیرقانونی سگریٹس فروخت ہوئے، جو کہ برازیل (37.7 ارب)، فرانس (18.9 ارب) اور جرمنی (15.7 ارب) سے بھی زیادہ ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے
0 تبصرے