شادی کا جھانسہ دے کر رضامندی حاصل کرنا ریپ کے زمرے میں آتا ہے: سندھ ہائی کورٹ

شادی کا جھانسہ دے کر رضامندی حاصل کرنا ریپ کے زمرے میں آتا ہے: سندھ ہائی کورٹ

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے شادی کا جھانسہ دے کر عورت سے جسمانی تعلق کے کیس میں ملزم کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ سندھ ہائی کورٹ نے کیس میں عبداللہ نامی شخص کے خلاف ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے قرار دیا کہ شادی کے جھوٹے وعدے کے ذریعے حاصل کی گئی رضامندی قانونی نہیں ہے۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے حاصل کی گئی رضامندی، رضامندی نہیں بلکہ یہ ریپ کے زمرے میں آتی ہے۔ شادی کے وعدے کے ذریعے عورت کو راضی کرنا ذہنی دباؤ اور دھوکے کے زمرے میں آتا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 10 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ملزم کے خلاف Chakiwara Police Station میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس نے انیسہ نامی خاتون کو شادی کے بہانے پنجاب سے بلا کر 11 سے 12 دن تک گلستان کالونی کے ایک گھر میں رکھا اور پھر شادی سے انکار کر دیا۔