کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعتِ اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ بدامنی، لاقانونیت، قبائلی جھگڑے، ڈاکو راج، کرپشن اور حکومتی ناقص کارکردگی کے باعث آج سندھ کے عوام دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ عوام کے محافظ پولیس موبائلوں کے ذریعے اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ میں پکڑے جانا انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ڈاکووں کی سہولت کاری اور لوگوں کے اغوا کے الزامات بھی سندھ پولیس پر لگتے رہے ہیں۔ گورنر یا حکومت کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی سے ہی عوام اور سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے، اسی لیے جماعتِ اسلامی ”بدلو نظام، سنوارو سندھ“ مہم چلا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز کراچی پریس کلب میں صحافیوں کے اعزاز میں دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ کوئلہ، پیٹرول، گیس اور زرعی دولت سے مالا مال صوبہ سندھ حکمرانوں کی کرپشن اور بدانتظامی کے باعث آج بھوک، بدحالی اور غربت کا شکار ہے۔ زمینوں پر قبضوں سے لے کر کارونجھر کی کٹائی، وسائل کی بندربانٹ اور پانی پر ڈاکے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ملوث ہے۔ آئین کے مطابق قدرتی وسائل پر پہلا حق سندھ کے عوام کا ہونا چاہیے، مگر پیپلز پارٹی کی حکومت اس سلسلے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔18 سال سے صوبہ سندھ پر حکمرانی کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام کو بھوک، بدحالی، کرپشن، تعلیم کی تباہی اور ڈاکو راج کے سوا کچھ نہیں دیا۔ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ کراچی سے کشمور تک بااختیار اور باوسائل بلدیاتی نظام دے کر محرومیوں کا خاتمہ اور علیحدہ صوبے کے مطالبے کا راستہ روکا جا سکتا ہے، مگر پیپلز پارٹی حکومت مقامی اداروں کو بااختیار بنانے کے بجائے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ کر کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ وہ خوش نصیب صوبہ ہے جہاں سے 26 اقسام کی معدنیات نکلتی ہیں، جن میں تیل، گیس، پیٹرول، کوئلہ اور زرعی وسائل شامل ہیں۔ گورکھ ہِل، ونڈ پاور، بندرگاہیں اور سمندر بھی سندھ میں موجود ہیں، مگر اس سب کے باوجود وفاق ہو یا پیپلز پارٹی کی حکومت، نتیجہ یہ ہے کہ سندھ کے 44 فیصد گھروں میں گیس موجود نہیں، 30 فیصد گھر بجلی کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ 45 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تھر میں معصوم بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔تعلیم تباہ ہو چکی ہے، پانچ ہزار گھوسٹ اسکول اور فرضی اساتذہ موجود ہیں، 78 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ تعلیمی ادارے بجلی، واش روم، فرنیچر اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ امن پسند سرزمین سندھ بدامنی، سماجی برائیوں، منشیات، کرپشن اور جرائم کا مرکز بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ ہو یا سیلاب، جماعتِ اسلامی نے ہر مشکل گھڑی میں سندھ کے عوام کی مدد کی ہے، اس لیے اب عوام کو چاہیے کہ بار بار آزمائے گئے وڈیروں اور جاگیرداروں کو مسترد کر کے جماعتِ اسلامی کو ووٹ کی طاقت سے آگے لائیں تاکہ ان کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔اس موقع پر سندھ کے جنرل چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف، صوبائی نائب امراء پروفیسر نظام الدین میمن، حافظ نصراللہ چنا، ڈپٹی جنرل سیکریٹری علامہ حزب اللہ جکھرو، امداد اللہ بجارانی اور سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا بھی موجود تھے۔#
0 تبصرے