سیاسی طور پر سندھ کے لوگوں کو غلام اور ناکارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے: ڈاکٹر قادر مگسی

گلشنِ حدید میں ایس ٹی پی کی تقریب، خلیل چانڈیو کی کتاب “سندھو مت” کی رونمائی

سیاسی طور پر سندھ کے لوگوں کو غلام اور ناکارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے: ڈاکٹر قادر مگسی

ملیر (رپورٹ: عبدالرشید مورجھریو) گلشنِ حدید میں سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کی جانب سے شمولیتی تقریب، معروف مصنف خلیل چانڈیو کی کتاب “سندھو مت” کی رونمائی اور افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس میں سیاسی و سماجی رہنماؤں، ادیبوں، کارکنوں اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، حیدر شاہانی، ڈیموکریٹ رہنما امان اللہ شیخ، معروف مصنف اور گلوکار بیدل مسرور بدوی، کلاسیکل گلوکار حنیف میمن، اصغر باغی، مصنفہ زہرا شیخ، سعیدہ گوپانگ سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں ادریس چانڈیو، الطاف میمن، ولی ناریجو، احمد خشک، قادر سومرو، آزاد گھلو، بختاور چانڈیو، شفقت پیرزادہ اور شہباز شر سمیت دیگر شخصیات نے سندھ ترقی پسند پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی، جن سے ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے حلف لیا۔ اس موقع پر معروف مصنف خلیل چانڈیو کی کتاب “سندھو مت” کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ اس وقت چاروں طرف سے دباؤ کا شکار ہے اور سیاسی طور پر سندھ کے لوگوں کو غلام اور ناکارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم پیرپرستی اور سرداری نظام میں جکڑے رہیں گے، تب تک ہمارے معصوم بچوں کا مستقبل روشن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے لوگوں کی حقیقی طاقت ابھی تک سیاست میں منتقل نہیں ہو سکی اور ہمارے راستے سرداروں اور پیروں نے بند کر رکھے ہیں۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ کچھ قوتیں سندھ کو کراچی سے الگ کرنے کی باتیں کر رہی ہیں، مگر سندھ چھ کروڑ افراد کا مادرِ وطن ہے اور ایسی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔