سندھ میں تیل و گیس کے ذخائر کے باوجود نہ گیس ہے نہ مقامی لوگوں کو روزگار

سندھ میں تیل و گیس کے ذخائر کے باوجود نہ گیس ہے نہ مقامی لوگوں کو روزگار

اسلام آباد (بیورو) پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے ذوالفقار بچاڻي نے کہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی اپنے ضلع کے مسائل اٹھاتے رہے ہیں، لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ ذوالفقار بچاڻي کے مطابق ٹنڈو الہیار ضلع سندھ میں تیل اور گیس پیدا کرنے والے بڑے اضلاع میں شمار ہوتا ہے، گهوٹکی، سانگھڑ اور بدین کے بعد یہ چوتھا بڑا پیداواری ضلع ہے، لیکن آج تک یہاں گیس کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کا اسمبلی میں دوسرا دور ہے اور پچھلے دور میں بھی اپنے ضلع کے حوالے سے آواز بلند کی، مگر اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ چکا ہے کہ جس علاقے میں تیل اور گیس نکلتی ہے وہاں 5 کلومیٹر کی حد میں گیس فراہم کی جانی چاہیے، لیکن ہمارے ضلع کا حق بدین ضلع لے جا رہا ہے۔ ذوالفقار بچاڻي نے کہا کہ ضلع میں موجود آئل اور گیس کمپنیاں مقامی لوگوں کو روزگار نہیں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ملک کو 60 فیصد گیس فراہم کرتا ہے، جبکہ ہمارے ضلع میں 12 گھنٹے تک گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی رہتی ہے، اور حیسکو کی جانب سے بھی یہاں 13 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بل ادا کرنے والے شہری بھی سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔