عیدالفطر کی خوشیاں اور اس کی اہمیت

سیدہ سونیا منور

عیدالفطر کی خوشیاں اور اس کی اہمیت

عیدالفطر مسلمانوں کا ایک عظیم اور خوشیوں بھرا تہوار ہے جو رمضان المبارک کے اختتام پر منایا جاتا ہے یہ دن اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے اور ایک ماہ کی عبادات کے بعد خوشی منانے کا موقع فراہم کرتا ہے دنیا بھر کے مسلمان اس دن کو مذہبی عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیںرمضان المبارک کے پورے مہینے میں مسلمان روزے رکھتے ہیں، نمازیں ادا کرتے ہیں اور قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس مہینے میں صبر، برداشت اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا درس ملتا ہے عیدالفطر دراصل ان عبادات کے بعد خوشی اور کامیابی کا دن ہوتا ہے عیدالفطر کے دن مسلمان صبح سویرے اٹھ کر غسل کرتے ہیں، نئے یا صاف کپڑے پہنتے ہیں اور عید کی نماز ادا کرنے کے لیے عیدگاہ یا مسجد کا رخ کرتے ہیں نمازِ عید کے بعد مسلمان ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور محبت و بھائی چارے کا اظہار کرتے ہیںعیدالفطر کی خوشیوں میں ایک اہم عمل صدقہ فطر ادا کرنا بھی ہے یہ صدقہ صاحبِ حیثیت مسلمانوں پر لازم ہے تاکہ غریب اور مستحق افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں اس طرح اسلام معاشرے میں مساوات اور ہمدردی کا پیغام دیتا ہے عید کے دن گھروں میں خصوصی کھانے تیار کیے جاتے ہیںپاکستان سمیت کئی ممالک میں شیر خرما، سویاں اور مختلف مٹھائیاں عید کی خاص پہچان سمجھی جاتی ہیں خاندان کے افراد اور مہمان مل کر ان خوشیوں کو مزید بڑھاتے ہیں بچے عید کے دن خاص طور پر خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں عیدی ملتی ہے اور وہ نئے کپڑے پہن کر دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ عید کی خوشیاں مناتے ہیںبازاروں اور گلیوں میں بھی عید کا سماں بہت خوشگوار ہوتا ہے عیدالفطر ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت، اخوت اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں اس دن لوگوں کو چاہیے کہ وہ غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھیں تاکہ معاشرے میں خوشی اور سکون پھیل سکے مختصر یہ کہ عیدالفطر صرف خوشی کا تہوار ہی نہیں بلکہ شکرگزاری، محبت اور انسانیت کا درس بھی دیتی ہے یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر ادا کریں اور دوسروں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھیںعیدالفطر کے موقع پر لوگ اپنے عزیز و اقارب، دوستوں اور پڑوسیوں سے ملاقات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں اس دن رنجشیں اور ناراضگیاں بھلا کر محبت اور اخوت کو فروغ دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عید کا دن معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی بہترین مثال بن جاتا ہے آج کے دور میں عیدالفطر کی خوشیاں صرف گھروں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ مختلف فلاحی ادارے اور سماجی تنظیمیں بھی مستحق افراد کے لیے خصوصی اقدامات کرتی ہیں کپڑوں، کھانے پینے کی اشیاءاور دیگر ضروری سامان کی تقسیم کے ذریعے ضرورت مند افراد کو عید کی خوشیوں میں شامل کیا جاتا ہے، جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔