سوبھوڈیرو (نمائندہ خصوصی)
سوبھوڈیرو کے نواحی گاؤں رضل میمن کے رہائشی ڈاکٹر منصور علی میمن نے تعلقہ پریس کلب سوبھوڈیرو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے ایم اے انگلش جبکہ اقرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے، جبکہ دوسری پی ایچ ڈی سندھ یونیورسٹی جامشورو سے زیرِ تعلیم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ سال 2015 سے بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری میں لیکچرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے مبینہ طور پر حسد اور جانبداری کی بنیاد پر انہیں رواں سال ملازمت سے زبردستی برطرف کر دیا، حالانکہ ان کے خلاف کوئی قانونی یا انتظامی وجہ موجود نہیں تھی۔
ڈاکٹر منصور علی میمن کا کہنا تھا کہ سال 2022 سے ان کے لاکھوں روپے کے واجبات بھی روک لیے گئے ہیں، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انگلش کے پی ایچ ڈی ہولڈرز کی تعداد بہت کم ہے، لیکن افسوس کہ ان کی قابلیت اور تعلیمی خدمات کے باوجود ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یونیورسٹی آف پاناما میں پی ایچ ڈی سپروائزر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر اپنے ہی ملک میں انہیں نامناسب رویے اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ڈاکٹر منصور علی میمن نے اعلیٰ حکام، وفاقی و صوبائی حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ملازمت پر بحال کیا جائے اور ان کے تمام واجبات ادا کیے جائیں تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت اور تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
0 تبصرے