ریاض (ویب ڈیسک) ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے پر تیزی سے قبضے کو سعودی میڈیا نے خطے کی سلامتی اور عالمی بحری آمدورفت کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ نے 10 ستمبر کو کہا کہ تہران آبنائے ہرمز سے دباؤ منتقل کرکے آبنائے باب المندب کی جانب لے جانا چاہتا ہے۔
حوثی باغیوں نے مخا کی بندرگاہ اور آبنائے باب المندب کے گرد کئی مقامات پر قبضہ کرلیا ہے، یہ علاقہ بحیرۂ احمر میں عالمی بحری آمدورفت کا اہم راستہ ہے۔
ساحلی پٹی کے علاقے کا کنٹرول اس سے قبل سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمن کی حکومتی فورسز کے پاس تھا۔
ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے پہلے ہی خلیجی ممالک کی بحری تجارت پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے، جبکہ اس صورتحال کے باعث بحیرۂ احمر کے ذریعے سعودی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
الاخباریہ کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی پیش قدمی ایران کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد دونوں اہم بحری راستوں پر دباؤ بڑھانا اور ’’عالمی معیشت کو بلیک میل کرنا‘‘ ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے العربیہ نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ سعودی عرب کا طویل عرصے سے علاقائی حریف ایران اس کارروائی کے پیچھے ہے۔
العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مہمان نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ماہرین حوثیوں کی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران باب المندب کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی کی حمایت کے لیے اپنی مکمل فوجی طاقت استعمال کر رہا ہے۔
العربیہ نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے تہران تک سعودی عرب کا سخت پیغام پہنچایا ہے، جس میں حوثیوں کو قابو میں رکھنے اور ان کی پیش قدمی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 10 ستمبر کو علاقائی کشیدگی کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے۔
ایران نے حوثیوں کی کارروائی کی ہدایت دینے کے الزام کو مسترد کیا ہے، جبکہ اس نے یمن پر عائد غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سخت گیر میڈیا نے حوثیوں کی جنگی کامیابیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
0 تبصرے