یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی، اموات کی تعداد 1500 تک پہنچ گئی

یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی، اموات کی تعداد 1500 تک پہنچ گئی

پیرس: یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر بدستور جاری ہے، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق شدید گرمی کے باعث پورے یورپ میں اب تک تقریباً 1,500 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ اسپتال ہیٹ ویو سے متاثرہ مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق فرانس میں گرمی سے اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں زیادہ تر بزرگ شہری شامل ہیں، جبکہ اسپین میں ہیٹ ویو کے باعث 327 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولینڈ میں گرمی نے ایک صدی پرانا درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا ہے، جبکہ سربیا میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تقریباً 15 کروڑ یورپی شہری شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں۔ شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں، جبکہ البانیا میں جنگلات میں لگنے والی آگ سے جنگلی پودوں اور زیتون کے باغات کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہیٹ ویو نے بجلی کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور صحت کے نظام پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جبکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی اس غیر معمولی گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔