سربرینیتسا کو فراموش کرنا تاریخ سے انحراف ہوگا، عالمی برادری نسل کشی کے خلاف متحد ہو، ایمین چوہوداریویچ
اسلام آباد: بوسنیا و ہرزیگووینا میں 1995ء کی سربرینیتسا نسل کشی کی 31ویں برسی کے موقع پر بین الاقوامی یومِ تفکر و یادگار کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ دوستی، امن، انصاف اور تاریخی حقائق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف اور رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر عقیل ملک، پاکستان میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے سفیر ایمین چوہوداریویچ، سینیٹر فیصل سلیم، ڈائریکٹر جنرل (یورپ)، وزارتِ خارجہ، شہباز کھوکھر، مختلف ممالک کے سفارت کاروں، ممتاز کاروباری شخصیات، صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے سربرینیتسا نسل کشی کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1995ء کا سانحہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے باوجود مندمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کے عوام کے دکھ اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور امن، انصاف، برداشت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نسل کشی جیسے جرائم اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عالمی برادری نفرت، انتہاپسندی، مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز کے خلاف متحد ہو کر مؤثر اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطے میں ایسے المناک سانحات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ اس موقع پر پاکستان میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے سفیر ایمین چوہوداریویچ نے اپنے خطاب میں سربرینیتسا نسل کشی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 1995ء میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور کم عمر لڑکوں کو منظم انداز میں قتل کیا گیا، جسے بین الاقوامی عدالتیں نسل کشی قرار دے چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سربرینیتسا صرف بوسنیا کا دکھ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسے جرائم کو کبھی فراموش نہ کیا جائے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے عوام جنگ کے مشکل ترین دور میں پاکستان کی انسانی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مئی 2024ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 11 جولائی کو سربرینیتسا نسل کشی کی یاد میں بین الاقوامی دن قرار دینے کی قرارداد کی منظوری میں پاکستان کے فعال کردار کو بھی سراہا۔ تقریب کے دوران مقررین نے کہا کہ سربرینیتسا نسل کشی دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں پیش آنے والا بدترین اجتماعی قتل تھا، جس میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو صرف ان کی مذہبی اور نسلی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود سربرینیتسا کے شہریوں کو وہ تحفظ فراہم نہ کیا جا سکا جس کی انہیں امید تھی، جبکہ بعد ازاں بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل برائے سابق یوگوسلاویہ (ICTY) اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) نے اپنے فیصلوں میں اس سانحے کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔ تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی امن، انصاف، رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، جبکہ نسل کشی کے متاثرین کی یاد کو زندہ رکھنا اور آئندہ نسلوں تک تاریخی حقائق پہنچانا پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تقریب کے اختتام پر سربرینیتسا نسل کشی کے شہداء کے ایصالِ ثواب، عالمی امن، انصاف اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ شرکاء نے متاثرین کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نفرت، نسل پرستی اور مذہبی تعصب کے خلاف آواز بلند کرنا ہی شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔.
0 تبصرے