ملک میں صرف 14 دن کا پٹرول باقی؟ وزیراعظم کا مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

ملک میں صرف 14 دن کا پٹرول باقی؟ وزیراعظم کا مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں ایندھن کی فراہمی، بچت کے اقدامات اور ممکنہ معاشی چیلنجز پر غور کیا گیا۔ بیان میں اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کی ضروریات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے بھی ان کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک کو خط لکھ کر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں پٹرول کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے، کیونکہ فروخت کے لیے دستیاب ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب ایکسپریس ٹریبیون نے صنعتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں صرف 14 دن کا پٹرول باقی رہ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول کے ذخائر کم ہو کر تقریباً 3 لاکھ 79 ہزار 442 ٹن رہ گئے ہیں، جن میں مقامی ریفائنریوں کی پیداوار بھی شامل ہے۔ موجودہ طلب کے مطابق یہ ذخائر صرف 14 دن کے لیے کافی ہیں۔ صنعت سے وابستہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے پہلے 13 دنوں کے دوران پٹرول کی روزانہ فروخت کا اوسط 25 ہزار ٹن رہا، جو اندازوں سے تقریباً 16 فیصد اور گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق استعمال میں اضافے کی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کے امکان کے باعث صارفین اور ڈیلرز کی جانب سے زیادہ خریداری کو قرار دیا جا رہا ہے۔