لندن (ویب ڈیسک) ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے خواتین کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی جنس (جینیٹک سیکس) کا ٹیسٹ لازمی قرار دیتے ہوئے نئی اہلیتی پالیسی نافذ کر دی ہے۔
ڈبلیو ٹی اے کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ہر کھلاڑی کو صرف ایک مرتبہ جینیاتی ٹیسٹ کرانا ہوگا، جبکہ اس پر عمل درآمد منگل سے شروع ہوگا۔
پالیسی کے مطابق کھلاڑیوں کے گال، خون یا تھوک کا نمونہ لے کر ”ایس آر وائی“ جین کی موجودگی کی جانچ کی جائے گی۔ صرف وہی کھلاڑی ڈبلیو ٹی اے ٹور میں حصہ لے سکیں گی جن کے ٹیسٹ میں ایس آر وائی جین موجود نہیں ہوگا۔
ڈبلیو ٹی اے کا کہنا ہے کہ جن کھلاڑیوں کا ٹیسٹ مثبت آئے گا، ان کا مزید طبی معائنہ کیا جائے گا، جبکہ ٹیسٹ سے انکار کرنے والی کھلاڑیوں کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے 2024ء میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح پر مبنی اہلیتی پالیسی ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی پالیسی کا مقصد خواتین کے مقابلوں میں منصفانہ اور مساوی مقابلے کو یقینی بنانا ہے۔
0 تبصرے