وزیراعظم کے کراچی اور حیدرآباد کے لیے ایم کیو ایم کے مطالبے پر 20 ارب روپے کے پیکیج پر عملدرآمد شروع

وزیراعظم کے کراچی اور حیدرآباد کے لیے ایم کیو ایم کے مطالبے پر 20 ارب روپے کے پیکیج پر عملدرآمد شروع

وزیراعظم کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد کے لیے اعلان کردہ 20 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی ڈی سی ایل)، جو وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ماتحت کام کرتی ہے، نے کراچی کے 504 اور حیدرآباد کے 17 ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز جاری کر دیے ہیں۔ وفاقی حکومت یہ فنڈز پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مالی سال 2023-24 کے دوران ایم کیو ایم کے مطالبے پر اس 20 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ یہ منصوبے ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی کے اراکین کی جانب سے تجویز کردہ اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ وفاقی حکومت نے اسی وقت یہ رقم پی آئی ڈی سی ایل کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی تھی، تاہم منصوبوں کو حتمی شکل دینے، ایکنک اور دیگر متعلقہ فورمز سے منظوری حاصل کرنے سمیت مختلف مراحل کی تکمیل کے بعد اب 28، 29 اور 30 جولائی کو ان منصوبوں کے ٹینڈرز کھول دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان تمام منصوبوں پر آئندہ چند روز میں عملی کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر، پیور بلاکس بچھانا، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے لیے نالوں کی تعمیر، بلدیہ ٹاؤن میں پانچ، پانچ لاکھ گیلن گنجائش کے دو زیرِ زمین پانی کے ٹینکوں کی تعمیر، بعض سرکاری اسپتالوں کو جدید طبی مشینری اور دیگر طبی سامان کی فراہمی، جبکہ دیگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق متعدد ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔