دریائے سندھ بھارت سے گزرتا ہی نہیں، پیپلز پارٹی منافقت کر رہی ہے: سید زین شاہ

دریائے سندھ بھارت سے گزرتا ہی نہیں، پیپلز پارٹی منافقت کر رہی ہے: سید زین شاہ

کراچی (ویب ڈیسک): سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی) کے صدر سید زین شاہ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ بھارت سے گزرتا ہی نہیں، جبکہ بھارت سے دریائے جہلم اور دریائے چناب گزرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کے پانی کی بندش کے معاملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب دریائے سندھ بھارت سے گزرتا ہی نہیں تو بھارت دریائے سندھ کا پانی کیسے روک سکتا ہے؟ ایس یو پی کے صدر نے کہا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو یہ جلوس پنجاب میں نکلنے چاہییں۔ پیپلز پارٹی پنجاب، پیپلز پارٹی بلوچستان، پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر بھی احتجاج کرے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ چین کے بعد گلگت بلتستان سے گزرتا ہے، اس لیے پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں بھی احتجاج کرے، صرف سندھ میں ہی مظاہرے کیوں کیے جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کے عوام کے ساتھ منافقت کر رہی ہے۔ پارٹی چیئرمین کے والد اور ملک کے صدر آصف علی زرداری نے نہریں بنانے کی منظوری دی تھی، جو آج تک واپس نہیں لی گئی۔ اگرچہ یہ کہا گیا تھا کہ تحقیقات کے بعد انہیں منسوخ کر دیا جائے گا، مگر اب تک انہیں برقرار رکھا گیا ہے۔ سید زین شاہ نے دعویٰ کیا کہ اعلان کردہ نہروں میں سے ایک نہر تعمیر ہو چکی ہے، جبکہ ان کا منصوبہ مزید 10 سے 12 نہریں بنانے کا ہے۔ انہوں نے سندھ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ تیاری کریں تاکہ ان منصوبوں کا راستہ روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے چھ نہروں کی بات کی جا رہی تھی، لیکن حقیقت میں 10 سے 12 نہریں بنانے کا منصوبہ ہے۔ ان میں سے چار نہریں گریٹر تھل کینال پر تعمیر کی جائیں گی، دو نہریں چولستان کے لیے بنیں گی، جبکہ جلال پور اور دیگر منصوبوں کے تحت بھی نئی نہریں تعمیر کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پنجاب میں 12 لاکھ ایکڑ اراضی کو قابلِ کاشت بنانے کا منصوبہ ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں بھی مزید زمین آباد کی جائے گی۔ ان نہری منصوبوں کے ذریعے مجموعی طور پر 37 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔