پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا، چند ہفتوں میں دوبارہ مالی معاونت ملنے کا امکان

پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا، چند ہفتوں میں دوبارہ مالی معاونت ملنے کا امکان

اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان نے چین کا 1.4 ارب امریکی ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر دیا ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اس قرض کی دوبارہ فنانسنگ کر دی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ جولائی کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے ادا کیے گئے، جس کے بعد رواں مالی سال کے لیے بیرونی قرضوں کی مجموعی ادائیگیوں کا حجم 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گیا ہے، جبکہ 3.5 ارب ڈالر صرف سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ رواں سال قرضوں کی ادائیگیوں کا دباؤ کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے حکمت عملی پر عمل جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور چین سے 12 ارب ڈالر کی رول اوور سہولت درکار ہوگی۔ پاکستان چین کو 1.4 ارب ڈالر کا کمرشل قرض واپس کر چکا ہے، تاہم چینی بینکوں نے ابھی تک اس قرض کی دوبارہ فنانسنگ نہیں کی، لیکن توقع ہے کہ چند ہفتوں کی تاخیر کے بعد یہ رقم دوبارہ اسلام آباد کو فراہم کر دی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے 28 ارب ڈالر خریدے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جولائی 2026 کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے ادا کیے گئے، جن میں چین کو واپس کیے گئے 1.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کے علاوہ باقی 80 کروڑ ڈالر دیگر قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیے گئے۔