واشنگٹن:
جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری ہونے والی تازہ دستاویزات کے بعد ایک بار پھر سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام سوشل میڈیا اور خبروں میں زیرِ بحث ہے۔ انکشافات کے ساتھ ایک نجی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں ٹرمپ کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ایک نجی تقریب میں موجود ہیں۔
وائرل ویڈیو میں دکھائی جانے والی بعض لڑکیوں کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کی عمریں 14 سے 16 سال کے درمیان ہیں، اور چند مبینہ بیانات بھی شامل ہیں۔ تاہم تاحال اس ویڈیو کا کوئی مستند ذریعہ، عدالتی ثبوت یا سرکاری تصدیق سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث اسے محض ایک وائرل دعویٰ ہی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ کا ذکر: اصل صورتحال کیا ہے؟
امریکی محکمۂ انصاف نے 23 دسمبر 2025 کو تقریباً 30 ہزار صفحات پر مشتمل نئی دستاویزات جاری کیں، جن میں مختلف مواقع پر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ان فائلوں میں ایپسٹین کے نجی طیارے سے متعلق سفری ریکارڈ، ای میلز اور میڈیا رپورٹس کے حوالے شامل ہیں۔
محکمۂ انصاف نے واضح کیا ہے کہ ان دستاویزات میں ٹرمپ کے خلاف کسی جرم کا براہِ راست ثبوت موجود نہیں، بلکہ بعض مقامات پر غیر مصدقہ، مبالغہ آمیز اور متنازع دعوے بھی شامل ہیں۔ کئی جگہوں پر ٹرمپ کا نام محض نیوز کٹنگز اور پرانی رپورٹس کے تناظر میں درج ہے۔
دستاویزات کے مطابق، ایک وفاقی پراسیکیوٹر نے 2020 میں ایک ای میل میں لکھا تھا کہ ٹرمپ نے 1993 سے 1996 کے دوران ایپسٹین کے نجی طیارے پر کم از کم آٹھ مرتبہ سفر کیا۔ ان میں سے کچھ پروازوں میں ایپسٹین کی قریبی ساتھی گِزلین میکسویل کی موجودگی کا بھی ذکر ملتا ہے۔
محکمۂ انصاف اور ٹرمپ کا مؤقف
محکمۂ انصاف کے مطابق، بعض دستاویزات میں شامل الزامات کی سچائی مشکوک ہے اور انہیں حتمی شواہد نہیں کہا جا سکتا۔ خود ڈونالڈ ٹرمپ نے ان انکشافات کو سیاسی مقاصد کے تحت توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی کے ساتھ تصویر میں نظر آنا یا ماضی میں ملاقات ہونا جرم ثابت نہیں کرتا۔ ان کے مطابق یہ سب باتیں ریپبلکن پارٹی کی سیاسی کامیابیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اچھالی جا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پر ردِعمل
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین فوری تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ کئی افراد اس ویڈیو کو بغیر تصدیق کے پھیلانے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کیس میں شامل ہر نام کو مجرم قرار دینا ناانصافی ہے، جب تک عدالتی شواہد سامنے نہ آ جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں شامل ہر نام کسی جرم کی علامت نہیں، بلکہ ان دستاویزات کو قانونی اور صحافتی معیار پر پرکھنا ضروری ہے، تاکہ حقائق اور افواہوں کے درمیان فرق واضح کیا جا سکے۔
0 تبصرے