انقرہ: ترکی کے صدر Recep Tayyip Erdoğan نے کہا ہے کہ ترکی نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران انتہائی محتاط اور دانشمندانہ حکمتِ عملی اختیار کی ہے اور برادر اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ترک میڈیا کے مطابق انقرہ میں کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لیے بچھائے گئے جال میں نہیں پھنسے اور پُرعزم ہیں کہ اس آگ کے دائرے سے دور رہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ گزشتہ 25 دنوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ Israel کی ہے، مگر اس کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ Benjamin Netanyahu کی بقا کی جنگ ہے، لیکن اس کا بوجھ آٹھ ارب انسان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے امن اور انسانیت کے مفاد میں نیتن یاہو کی قیادت میں جاری قتلِ عام کے نظام کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔
ترک صدر نے زور دیا کہ ہر ملک کو دلیرانہ اور فعال مؤقف اختیار کرنا ہوگا اور اسرائیل کے غیر لچکدار، حد سے زیادہ مطالبات اور سخت رویے کی وجہ سے سفارتی حل کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکی Iran میں امن کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔ United States اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ترکی اپنی معیشت کو ہونے والے ممکنہ نقصان کے ازالے کے لیے اقدامات بھی کر رہا ہے۔
0 تبصرے