لاہور/کراچی (بیورو) مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ دادو میں ایک ہائی پروفائل تینہ قتل کے آٹھ سال پرانے کیس میں ملوث پی پی کے دو اسمبلی ممبران سمیت 8 ملزمان کو بری کر دیا گیا، جس سے انصاف کا جنازہ نکل گیا ہے۔
ٹوئیٹر پر بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ کی مظلوم لڑکی اُم رباب چانڈیو نے اپنے دادا، والد اور چچا کے طاقتور قاتلوں کو سزا دلانے کے لیے آٹھ سال تنہا جدوجہد کی، لیکن سیاسی اثر، طاقت اور دولت نے کیس جیت لیا اور مظلوم مسلسل دھکے کھاتے رہے۔
سعد رفیق نے کہا کہ حقیقت میں اُم رباب چانڈیو نہیں ہاری، بلکہ عدالت ہار گئی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے ناکام، جانبدار اور انصاف سے خالی عدالتی نظام پر ایک اور بدنما داغ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شرمناک فیصلہ سیاسی سرپرستی کے تحت بڑھتے ہوئے کرپٹ وڈیرا شاہی کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھا دیتا ہے۔
اُم رباب کے دادا، والد اور چچا کے قاتل رب ذوالجلال کے عذاب سے کبھی نہیں بچیں گے۔
سعد رفیق نے کہا کہ پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ ایسا کرپٹ اور جانبدار عدالتی نظام ہے جو کمزور کو ہمیشہ دبا دیتا ہے اور طاقتور کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے قومی سطح پر مسلسل جدوجہد نہ کی گئی تو ذلت کے طوق ہمیشہ پاکستانیوں کی گردن کا ہار بنے رہیں گے۔
0 تبصرے