تعلیم میں ٹیکنالوجی کا کردار

عبداللہ عباسی

تعلیم میں ٹیکنالوجی کا کردار

اکیسویں صدی کو ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ آج ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے اور تعلیم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ روایتی "تختی، سلیٹ اور استاد" کے زمانے سے نکل کر ہم اب "سمارٹ بورڈ، ٹیبلٹ اور آن لائن کلاس" کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ تعلیم میں ٹیکنالوجی کا کردار اب ایک اضافی سہولت نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکا ہے۔ درج ذیل تعلیم میں ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات ہیں ۔ ٹیکنالوجی نے تعلیم کو کلاس روم کی چار دیواری سے نکال کر ہر گھر تک پہنچا دیا ہے۔ کورونا وبا کے دوران Zoom، Google Classroom اور Microsoft Teams نے تعلیم کا پہیہ چلتا رکھا۔ آج پاکستان کے دور دراز گاؤں کا بچہ بھی MIT یا ہارورڈ کے کورسز Coursera اور edX پر مفت دیکھ سکتا ہے۔ DigiSkills اور e-Rozgaar جیسے حکومتی پلیٹ فارمز نے لاکھوں نوجوانوں کو گھر بیٹھے ہنر سکھایا۔پرانی رٹی ہوئی تعلیم کے بجائے اب سیکھنا ایک دلچسپ تجربہ بن گیا ہے۔ اینی میشن، ویڈیوز، 3D ماڈلز اور Augmented Reality کے ذریعے مشکل تصورات آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں۔ بچہ جب دل کے خون پمپ کرنے کا عمل AR میں اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہ کبھی نہیں بھولتا۔ Khan Academy اور YouTube جیسے پلیٹ فارمز نے ریاضی اور سائنس کو کھیل بنا دیا ہے۔ ہر بچے کی سیکھنے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی "Adaptive Learning" کے ذریعے ہر طالب علم کے لیے الگ راستہ بناتی ہے۔ اگر کوئی بچہ ریاضی میں کمزور ہے تو AI اسے آسان سوال دے گا، اور تیز بچے کو مشکل چیلنج دے گا۔ Duolingo جیسی ایپس اس کی بہترین مثال ہیں جو ہر فرد کے مطابق سبق ایڈجسٹ کرتی ہیں ٹیکنالوجی نے استاد کا بوجھ بھی کم کیا ہے۔ حاضری، رزلٹ، ہوم ورک اور والدین سے رابطہ اب ایک کلک پر ہے۔ LMS یعنی لرننگ مینجمنٹ سسٹم سے استاد پورا کورس آن لائن مینج کر سکتا ہے۔ ChatGPT اور دیگر AI ٹولز سے استاد منٹوں میں کوئز، لیسن پلان اور مواد تیار کر سکتا ہے۔ پہلے علم کے لیے لائبریری جانا پڑتا تھا، آج پوری دنیا کی لائبریری جیب میں ہے۔ Google، Wikipedia، اور ڈیجیٹل لائبریریوں نے تحقیق کو آسان بنا دیا ہے۔ طالب علم کسی بھی موضوع پر سیکنڈوں میں ہزاروں ریفرنسز حاصل کر سکتا ہے۔جدید ٹیکنالوجی تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ روزگار سے جوڑتی ہے۔ کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ جیسے ہنر اب سکول لیول پر سکھائے جا رہے ہیں۔ STEM ایجوکیشن اور روبوٹکس لیبز بچوں کو مستقبل کے لیے تیار کر رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے خصوصی افراد کی تعلیم میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ نابینا افراد کے لیے Screen Readers، گونگے بہروں کے لیے Text-to-Speech، اور ذہنی معذور بچوں کے لیے خصوصی ایپس نے تعلیم کے دروازے سب پر کھول دیے ہیں۔ درج ذیل پاکستان میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے چیلنجز ہیں۔ شہروں کے بڑے سکولوں میں سماٹ بورڈ لگے ہیں، مگر دیہات کے سکولوں میں بجلی اور انٹرنیٹ تک نہیں۔ امیر کا بچہ ٹیبلٹ پر پڑھتا ہے، غریب کا بچہ آج بھی بستہ اٹھائے کئی کلومیٹر پیدل جاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل تقسیم تعلیمی عدم مساوات کو بڑھا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی خود کچھ نہیں کرتی، اسے استعمال کرنے والا چاہیے۔ ہمارے اکثر اساتذہ خود ٹیکنالوجی سے ناواقف ہیں۔ انہیں لیپ ٹاپ تو دے دیا جاتا ہے، مگر استعمال کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ نتیجہ یہ کہ مہنگے آلات کباڑ میں پڑے رہتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ اور سست انٹرنیٹ آن لائن تعلیم کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب کلاس کے بیچ میں لائٹ چلی جائے تو بچے کا دھیان اور دلچسپی دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ کا بے جا استعمال، گیمز، سوشل میڈیا اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی بچوں کی توجہ بھٹکا سکتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کی نگرانی نہ ہو تو ٹیکنالوجی فائدے کے بجائے نقصان دے سکتی ہے۔بدقسمتی سے ہم نے ٹیکنالوجی کو بھی رٹا لگانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ بچے سمجھنے کے بجائے YouTube سے پیپر کے جواب یاد کر لیتے ہیں۔ اس سے تخلیقی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام اور ٹیکنالوجی کوبہترکرنے کے لیے تجاویز۔ ہر سکول میں بجلی، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر لیب یقینی بنائی جائے۔ "سولر سکول" کا تصور اپنایا جائے۔ ہر استاد کو بنیادی IT کورس کروایا جائے۔ انہیں سکھایا جائے کہ ٹیکنالوجی کو نصاب میں کیسے ضم کرنا ہے۔اردو اور علاقائی زبانوں میں معیاری تعلیمی مواد، ایپس اور ویڈیوز تیار کی جائیں تاکہ عام بچہ بھی فائدہ اٹھا سکے۔طلبہ کے لیے خصوصی انٹرنیٹ پیکجز اور قسطوں پر لیپ ٹاپ سکیمیں متعارف کرائی جائیں۔ٹیکنالوجی کو استاد کا متبادل نہ سمجھا جائے۔ استاد کی رہنمائی، اخلاقی تربیت اور جذباتی تعلق کی جگہ کوئی مشین نہیں لے سکتی۔ بہترین ماڈل "Blended Learning" ہے یعنی کلاس روم + ٹیکنالوجی۔ والدین بچوں کے سکرین ٹائم کو مانیٹر کریں۔ تعلیمی ایپس کا استعمال یقینی بنائیں اور بچوں کو سائبر سیکیورٹی سکھائیں۔ ٹیکنالوجی ایک تیز دھار چاقو کی طرح ہے۔ اگر سمجھداری سے استعمال کریں تو یہ علم کا پھل کاٹ کر دے گی، اور اگر لاپرواہی کریں تو ہاتھ بھی کاٹ سکتی ہے۔ تعلیم میں ٹیکنالوجی کا اصل مقصد معلومات دینا نہیں، بلکہ "سیکھنا سکھانا" ہے۔ مستقبل ان قوموں کا ہے جو اپنے بچوں کو کتاب کے ساتھ ساتھ کوڈنگ بھی سکھائیں گی۔ ہمیں ٹیکنالوجی سے ڈرنا نہیں، بلکہ اسے اپنا غلام بنانا ہے۔ اگر ہم نے آج سکولوں میں AI، روبوٹکس، اور ڈیجیٹل لٹریسی کو عام کر دیا تو کل کا پاکستانی نوجوان دنیا کا مقابلہ کر سکے گا۔ ورنہ ہم صرف ٹیکنالوجی کے خریدار بن کر رہ جائیں گے، موجد نہیں۔بہترین سکول وہ نہیں جہاں مہنگی مشینیں ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں مشینوں کو استعمال کرنے والا قابل دماغ ہو۔