سکرنڈ: سيد زین شاہ نے سندھ حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا ہے۔
سکرنڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ امیر کو مزید امیر اور غریب کو مزید غریب بنانے کا سبب بنے گا، جبکہ متوسط طبقہ بھی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ موجودہ 11.7 فیصد مہنگائی کی شرح کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
زین شاہ نے الزام عائد کیا کہ Pakistan Peoples Party اور Pakistan Muslim League (N) نے صوبوں کے اختیارات اور وسائل پر سودے بازی کرتے ہوئے National Finance Commission Award اور آئین کی اٹھارویں ترمیم کی روح کو متاثر کیا ہے، جسے وہ غیر آئینی عمل قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا جائز حصہ 57.5 فیصد بنتا ہے، لیکن پیٹرولیم لیوی سمیت اربوں روپے مرکز کی جانب سے وصول کیے جا رہے ہیں، جو صوبوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے ترقیاتی بجٹ میں 30 فیصد کٹوتی تشویش ناک ہے، جبکہ کم از کم 50 فیصد اضافے کی ضرورت تھی۔
زین شاہ کے مطابق کراچی کی زمین، پانی اور دیگر وسائل بتدریج وفاق کے حوالے کیے جا رہے ہیں، جو سندھ کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم اور سنجیدہ سوال ہے۔
0 تبصرے