کراچی پریس کلب پرلینڈ گریبر عبدالکریم نیازی کےخلاف مہران ٹاؤن کے غریبوں کے گھر مسمار کرنے پر مظاہرہ

کراچی پریس کلب پرلینڈ گریبر عبدالکریم نیازی کےخلاف مہران ٹاؤن کے غریبوں کے گھر مسمار کرنے پر مظاہرہ

کراچی: مہران ٹاؤن کورنگی کے مکینوں نے اپنے گھروں کے مبینہ تحفظ، قبضہ مافیا اور جعلی مقدمات کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں خواتین، بچوں، مردوں اور بزرگوں سمیت علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لینڈ مافیا کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔
احتجاجی مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ لینڈ مافیا و فائل مافیا کے سرغنہ عبدالکریم نیازی کے خلاف متعدد ایف آئی آرز درج ہیں اور اس کا مبینہ طور پر وسیع کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔ مظاہرین کے مطابق عبدالکریم نیازی اپنے مبینہ ساتھیوں ربنواز بھٹی اور جنید جمالی. حمید چودهری کے ذریعے پولیس سے ساز باز کرکے مہران ٹاؤن کے مکینوں کے خلاف سریا اور سیمنٹ چوری سمیت مختلف نوعیت کے مبینہ جعلی مقدمات درج کرواتا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر پولیس اور نجی مسلح افراد کے ذریعے رات کے اوقات میں مکینوں کے گھروں میں داخل ہوکر انہیں اٹھایا جاتا ہے اور دباؤ کے ذریعے جعلی معاہدوں پر دستخط کروائے جاتے ہیں، جن کی ویڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں۔ مظاہرین کے مطابق بعد ازاں انہی مبینہ معاہدوں کو بنیاد بنا کر مکانات خالی کروانے اور بعض گھروں کو مسمار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مظاہرین نے مزید الزام عائد کیا کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) کے بعض افسران بھی مبینہ طور پر عبدالکریم نیازی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، جو مبینہ ساز باز کے ذریعے جعلی پاور آف اٹارنی تیار کروا کر غریب مکینوں کو ان کے گھروں سے محروم کرنے میں معاونت کر رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ سابق گورنر سندھ کی جانب سے بھی ماضی میں آئی جی سندھ اور متعلقہ حکام کو عبدالکریم نیازی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم مظاہرین کے مطابق اس کے باوجود مبینہ طور پر کارروائیاں مؤثر ثابت نہیں ہوئیں۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ عبدالکریم نیازی مبینہ طور پر اثر و رسوخ اور پیسے کے بل بوتے پر قانون سے بے خوف ہونے کا اظہار کرتا ہے۔
مکینوں نے الزام عائد کیا کہ عبدالکریم نیازی کے ہمراہ مبینہ طور پر اسلحہ بردار افراد موجود رہتے ہیں اور گھر خالی نہ کرنے پر مکینوں کو تشدد، جان سے مارنے کی دھمکیوں اور ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے سے مہران ٹاؤن میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے گھر ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہیں۔ مظاہرین کے مطابق مبینہ جعلی پاور آف اٹارنی اور نجی افراد کے ذریعے ان کے گھروں کو مسمار کرنے اور قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
مظاہرین نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ، پولیس کے اعلیٰ حکام، کے ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عبدالکریم نیازی، ربنواز بھٹی اور جنید جمالی کے خلاف عائد الزامات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور مکینوں کے خلاف درج مقدمات کی بھی میرٹ پر تحقیقات کی جائیں۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے مقدمات درج کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی بھی تحقیقات کی جائیں جن پر مبینہ طور پر لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر مکینوں کو ہراساں کرنے اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کے الزامات ہیں، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے۔
احتجاج کے دوران شرکاء نے مختلف نعرے بھی لگائے، جن میں:
"عبدالکریم نیازی کو بھگاؤ، مہران ٹاؤن کو بچاؤ"
"ربنواز بھٹی کو بھگاؤ، مہران ٹاؤن کو بچاؤ"
"جنید جمالی کو بھگاؤ، مہران ٹاؤن کو بچاؤ"
شامل تھے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مہران ٹاؤن کے مکینوں کے گھروں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، مبینہ قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور غریب شہریوں کو انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔