کراچی: باغِ جناح میں پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس آمنے سامنے، پتھراؤ اور شیلنگ

کراچی کے علاقے باغِ جناح میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، اس دوران کارکنان کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے شیلنگ کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔

کراچی: باغِ جناح میں پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس آمنے سامنے، پتھراؤ اور شیلنگ

پولیس کے مطابق واقعے کے دوران 30 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ ایک پولیس اہلکار مظاہرین کے تشدد سے زخمی ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے جلسے کے پیشِ نظر شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جلسہ گاہ کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ قیدیوں کی گاڑی اور واٹر کینن بھی نمائش چورنگی کے قریب موجود رہی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کو باغِ جناح میں جلسے کی اجازت مل گئی ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے افراد کم پڑ رہے ہیں تو سندھ حکومت کرسیوں اور کنٹینر کے ساتھ افراد بھی فراہم کر سکتی ہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے واضح کیا کہ اگر جلسہ گراؤنڈ سے باہر یا کسی سڑک پر منعقد ہوا تو حکومت سندھ سخت کارروائی کرے گی۔ سندھ کے وزیر ثقافت ذوالفقار علی نے بھی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے پاس کارکنان موجود نہیں، اسی لیے صورتحال کو ڈرامائی رنگ دیا جا رہا ہے۔