جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے ترجمان ڈاکٹریونس دانش نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کا بحران اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب کسی انتظامی غلطی یا اتفاقی صورتحال کا نتیجہ نہیں رہا بلکہ یہ عوام کے خلاف ایک منظم معاشی ظلم اور کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے ذلیل و خوار ہوتا رہے گا؟انہوں نے کہا کہ ہر سال یہی ڈرامہ دہرایا جاتا ہے۔ پہلے گندم کی قلت پیدا کی جاتی ہے، پھر آٹا مہنگا کیا جاتا ہے اور آخر میں افسر شاہی اور ذخیرہ اندوز مافیا اربوں کما کر بچ نکلتے ہیں، جبکہ حکومت صرف تماشائی بنی رہتی ہے۔ یہ نااہلی نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت اور ملی بھگت ہے، جس کی قیمت عوام اپنی بھوک سے ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں دیا جاتا اور شہری کو مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ فائدہ صرف ان عناصر کو ہوتا ہے جو سرکاری افسروں کی سرپرستی میں گودام بھر کر بیٹھے ہیں، ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور مصنوعی بحران پیدا کر کے قوم کا خون نچوڑتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے براہِ راست سوال کیا کہ اگر ریاست میں قانون موجود ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ اگر انتظامیہ بے بس ہے تو پھر حکمرانی کا حق کس نے دیا؟ اور اگر سب کچھ علم میں ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کی جا رہی ہے تو یہ عوام سے کھلی دشمنی کے مترادف ہے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ محض اجلاس، کمیٹیاں اور بیان بازی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ذخیرہ اندوز مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے اور گندم و آٹے کی قیمتوں کو فوری طور پر عوام کی قوتِ خرید کے مطابق لایا جائے۔آخر میں ڈاکٹر یونس دانش نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو عوامی بے چینی سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ قوم مزید بھوک، مہنگائی اور تماشے برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
0 تبصرے