کنڈیارو میں یوسی غلام شاہ کے 30 سے زائد دیہات کے مکین سڑکوں پر نکل آئے، منتخب نمائندوں کے خلاف احتجاج

کنڈیارو میں یوسی غلام شاہ کے 30 سے زائد دیہات کے مکین سڑکوں پر نکل آئے، منتخب نمائندوں کے خلاف احتجاج

کنڈیارو میں یوسی غلام شاہ کے 30 سے زائد دیہات کے مکین سڑکوں پر نکل آئے، منتخب نمائندوں کے خلاف احتجاج یوسی غلام شاہ کے 30 سے زائد دیہات کے رہائشی اپنے حلقے کے منتخب پیپلز پارٹی کے ایم این اے، ایم پی اے اور یوسی چیئرمین کی تلاش میں سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ انتخابات کے دوران نمائندے دیہات میں آ کر وعدے کر گئے لیکن اس کے بعد واپس پلٹ کر نہیں آئے اور ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ یوسی غلام شاہ کے دیہات کے سینکڑوں مکین بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف “ہمارے ایم پی اے اور ایم این اے کو تلاش کرو” کے نعروں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے۔ مظاہرین ترقیاتی کاموں کی تکمیل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیہاتیوں کے ساتھ انصاف کے حق میں فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ تعلقہ کنڈیارو کی سب سے بڑی یوسی غلام شاہ کے دیہات سانول منگریو، راج محمد منگریو، شیر خان کوسو، خدا بخش کوسو، ساجن منگریو، قابل منگریو، علن کلیری، ٹھارو کلیری، گاؤں جاوید پنجابی، برکت دین آرائیں، عمر دین آرائیں اور دیگر دیہات کے رہائشی ظفر کوسو اور دیگر کی قیادت میں ٹول پلازہ سے چار کلومیٹر مارچ کرتے ہوئے شہر کے اسٹار چوک پر دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ حلقے کے پیپلز پارٹی کے ایم این اے سید ابرار علی شاہ، ایم پی اے سید سرفراز حسین شاہ اور یوسی غلام شاہ کے چیئرمین طارق منگریو نے کئی برسوں سے کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز ہونے کے باوجود دیہات میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کرایا۔ ظفر کوسو، کامریڈ ذوالفقار، عمر دراز قائم خانی اور دیگر کا کہنا تھا کہ دیہات کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جا رہی ہے۔ احتجاج کرنے والوں کے مطابق دیہات کی سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں، گلیوں میں پیور بلاک نہیں لگائے گئے، نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث گندا پانی جمع رہتا ہے جس سے دیہاتی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے سینکڑوں افراد اپنے حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وعدہ وفا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندے نہ صرف ترقیاتی کام کرانے میں ناکام رہے بلکہ علاقے کا دورہ کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔