تہران/تل ابیب/واشنگٹن (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے پُرعزم ہونے کے دعوے کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم شہروں تبریز اور اصفہان کے توانائی انفراسٹرکچر پر فضائی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔
ادھر ایران نے ان بیانات کو ”نفسیاتی حربہ“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ کی جوابی کارروائیوں اور تل ابیب پر ایرانی میزائل حملوں کے باعث اسرائیل میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
اسی دوران بحرین نے سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
0 تبصرے