مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال: امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا امکان

مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال: امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا امکان

لندن/اسلام آباد (ویب ڈیسک): امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ گیا ہے۔ برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایرانی سفیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے ”محدود امکانات“ موجود ہیں اور اگر حتمی فیصلہ ہو گیا تو اسلام آباد ان بات چیت کی میزبانی کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر وزیرِاعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔ وزیرِاعظم نے کشیدگی میں فوری کمی اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ پاکستان، ترکی اور مصر جیسے ممالک، جن کے صدور کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اس وقت ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ”تعمیری اور نتیجہ خیز“ بات چیت ہوئی ہے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔ ایرانی حکام کو امریکہ پر سخت شکوک ہیں کیونکہ فروری اور جون میں ہونے والی بات چیت امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث ناکام ہو گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وِٹکوف کے درمیان ابتدائی رابطہ بھی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی رہنما محمد باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ممکنہ ملاقات کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔