کراچی کے حیدر منزل میں ہونے والی تنظیمی سرگرمیوں کے نتیجے میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا اور چھ سال سے زائد کی سزائیں سنائی گئیں
سکرنڈ (رپورٹر): سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے “23 مارچ: قرارداد لاہور اور آج کا پاکستان” کے حوالے سے وائیٹ روز ریسٹورنٹ، سکرنڈ میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کی شخصیات، تاجروں، صحافیوں اور خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
سیمینار میں ایس یو پی کے مرکزی صدر سید زین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے حیدر منزل میں ہونے والی تنظیمی سرگرمیوں کے نتیجے میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا اور چھ سال سے زائد کی سزائیں سنائی گئیں۔
زين شاہه نے مزید کہا کہ جب امداد محمد شاہ سے پوچھا گیا کہ آپ کوئی سیاسی پارٹی کیوں نہیں بناتے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کی آخری پارٹی عوامی لیگ تھی، اور اب ملک کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم، صحت اور سماجی شعبوں پر کام کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ سوچنا ہوگا کہ قرارداد لاہور دھوکہ تھی یا آج کی حکمرانی کا انداز، اور سچ کو کبھی چھپایا نہیں جا سکتا، کسی بھی طاقت یا جبر کے ذریعے عوام کے دلوں پر حکمرانی نہیں کی جا سکتی۔ زين شاہه نے کہا کہ جی ایم سید واحد سیاستدان تھے جنہوں نے مہذب اور مضبوط انداز میں حق طلبی کا فارمولا پیش کیا۔
سیمینار میں یہ بھی کہا گیا کہ آئینِ پاکستان کی بنیاد میں کچھ کمزور نکات ہیں، جن کی وجہ سے مسلسل مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اور عوام کو حکمرانوں کی کارکردگی سے آگاہ کرنا اور عوامی طاقت کے ذریعے جواب دینا ضروری ہے۔
اس سے قبل ایس یو پی کے ضلعی صدر حافظ ذین بھٹو نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ سیمینار میں آفتاب احمد خانزادہ، مجیب سندھی، رمضان برڑو، پروفیسر عبید اللہ ماچھئی ایوب کوسو، محمد بچل دہیو، پرویز سومرو، کیلا رام اوڑ اور علی سومرو سمیت دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔
0 تبصرے