تہران / واشنگٹن / تل ابیب / لندن (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایران کی جانب سے اسرائیل کے شہری علاقوں پر براہِ راست میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ اس کے جواب میں اصفہان میں موجود ایرانی اسلحہ کے ذخائر کو “بنکر بسٹر” بموں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اصفہان کے قریب تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کا امریکی ریپر ڈرون مار گرایا ہے، جبکہ لبنان کے محاذ پر حزب اللہ کے ہاتھوں مزید اسرائیلی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب سمندروں میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے عالمی تجارت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دبئی کے قریب کویتی پرچم بردار آئل ٹینکر پر ڈرون حملے کے بعد جہاز میں آگ لگنے کے واقعے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے مزید 20 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ پینٹاگون نے امریکی وزیرِ دفاع کے حوالے سے گردش کرنے والی سرمایہ کاری سے متعلق خبر کی تردید کر دی ہے۔
دبئی کے قریب سمندر میں کویتی پرچم والے آئل ٹینکر پر حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق خام تیل سے بھرے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔
اماراتی حکام کے مطابق کویتی پرچم بردار آئل ٹینکر السلمی پر ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ کسی قسم کا تیل بہنے یا عملے کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز چین کے شہر چنگ ڈاؤ کی جانب جا رہا تھا اور اس میں تقریباً 12 لاکھ بیرل سعودی خام تیل اور 8 لاکھ بیرل کویتی خام تیل موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ السلمی جہاز اصل ہدف نہیں تھا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج میں ایک ایسے کنٹینر بردار جہاز کو نشانہ بنایا جو اسرائیل سے منسلک تھا، جبکہ شپنگ ڈیٹا کے مطابق اس کا اشارہ سنگاپور کے پرچم والے جہاز ہائی فونگ ایکسپریس کی طرف تھا، جو حملے کے وقت السلمی جہاز کے قریب لنگر انداز تھا۔
چینی کمپنی کے دو کنٹینر بردار جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر گئے
چین کی ایک بڑی شپنگ کمپنی کے دو کنٹینر بردار جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر گئے ہیں۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق CSCL انڈین اوشن اور CSCL آرکٹک اوشن نامی جہاز گزشتہ روز وقفے وقفے سے آبنائے ہرمز عبور کر گئے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں جہاز اب ملائیشیا کی بندرگاہ پورٹ کلانگ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستانی پرچم بردار جہاز بھی کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر چکے تھے۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
0 تبصرے