ٹھری میرواہ (رپورٹر) ٹھری میرواہ تھانے میں پولیس اہلکار سمیت چار افراد کے خلاف تین مختلف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ مقدمات میں نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے اور ایک عورت کے سامنے زبردستی زیادتی کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق اہلکار الطاف خاصخیلی پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دو نوجوانوں کو کپڑے اتارنے پر مجبور کرنے، ان کی ویڈیو بنانے اور بعد میں بلیک میل کرنے کے دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
فریادی گھنشام مل کے مطابق اہلکار الطاف خاصخیلی، عامر خاصخیلی، خالد اسلامی اور اس کی بیوی فلک اسلامی نے اسے ایک کمرے میں بلایا، جہاں ایک عورت کے سامنے اسے زبردستی کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کیا گیا۔ فریادی کے مطابق ملزمان نے مختلف اوقات میں اس سے 16 لاکھ روپے وصول کیے۔
دوسری جانب روی کمار کی مدعیت میں بھی الطاف خاصخیلی، وسیم خاصخیلی اور بینظیر اسلامی کے خلاف کپڑے اتار کر ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فریادی کے مطابق الطاف خاصخیلی نے دکان سے لی گئی ادھار رقم واپس کرنے کے بہانے اسے ایک جگہ بلایا جہاں وسیم خاصخیلی اور بینظیر اسلامی بھی موجود تھے۔ وہاں اسے زبردستی کپڑے اتارنے پر مجبور کر کے ویڈیوز بنائی گئیں اور بلیک میل کر کے 11 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
ٹھری میرواہ تھانے میں تیسرا مقدمہ بینظیر اسلامی کی مدعیت میں اس کے ماموں خالد اسلامی، اس کی بیوی فلک ناز، زاہد اور اہلکار الطاف خاصخیلی کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ فریادیہ کے مطابق اس کے ماموں خالد اسلامی، فلک ناز اور زاہد نے اسے ایک کمرے میں بند کر کے اہلکار الطاف خاصخیلی کے حوالے کیا جس نے اس کے ساتھ زبردستی زیادتی کی۔
پولیس نے مقدمات درج کرنے کے بعد اہلکار الطاف خاصخیلی کو گرفتار کر کے لاک اپ میں بند کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی سکھر نے انکوائری کے بعد اہلکار الطاف خاصخیلی کو معطل کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔
ذرائع کے مطابق سال 2021 میں بھی مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا جس کے باعث وہ تقریباً پانچ سال تک برطرف رہا۔ بعد ازاں مخالف فریق کو بھاری جرمانہ ادا کرنے کے بعد وہ چار ماہ قبل دوبارہ ملازمت پر بحال ہوا تھا۔
0 تبصرے