تعلیم کے شعبے میں ویٹنگ امیدواروں کا معاملہ: خصوصی کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی صدارت میں منعقد

تعلیم کے شعبے میں ویٹنگ امیدواروں کا معاملہ: خصوصی کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی صدارت میں منعقد

کراچی (پ ر) سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی صدارت میں تعلیم کے شعبے میں التوا کا شکار امیدواروں کے معاملے پر قائم خصوصی کمیٹی کا اہم اجلاس سندھ اسمبلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، قائد حزب اختلاف علی خورشیدی، وزیر داخلہ، قانون اور پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار، رکن سندھ اسمبلی جمیل سومرو، وزیراعلیٰ کی معاون خصوصی تنزیلہ ام حبیبہ، ایم پی اے شبیر قریشی اور ایم پی اے محمد راشد خان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سندھ اسمبلی کے سیکریٹری جی ایم عمر فاروق، محکمہ تعلیم کے سیکریٹری زاہد عباسی اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران محکمہ تعلیم کی جانب سے پورے سندھ میں خالی آسامیوں پر التوا کا شکار امیدواروں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں PST اور JEST بھرتیوں کی صورتحال بھی شامل تھی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں اس سے قبل بڑے پیمانے پر بھرتی مہم کے تحت تقریباً 93 ہزار پرائمری اور جونیئر اسکول اساتذہ کو خالص میرٹ پر بھرتی کیا گیا، جسے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی شفاف بھرتی قرار دیا جا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں میرٹ اور شفافیت کے ساتھ بھرتیاں ایک قابل تعریف اقدام ہے۔ انہوں نے جمیل سومرو کی بھی تعریف کی جنہوں نے اسمبلی اجلاس میں اس اہم مسئلے کو اٹھایا، جس کے نتیجے میں خصوصی کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران آگاہ کیا گیا کہ کتنی آسامیاں باقی ہیں اور کتنے امیدوار ویٹنگ لسٹ میں شامل ہیں۔ اجلاس میں بھرتیوں میں تاخیر کے سماجی اثرات اور عمل کو مکمل کرنے کے انتظامی و تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ PST اور JEST بھرتیوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اس خصوصی کمیٹی کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے۔ 93 ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی ایک تاریخی اقدام ہے، جس پر محکمہ تعلیم مبارکباد کا مستحق ہے۔ ہمیں موجود خالی آسامیوں اور ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کے حوالے سے مکمل آگاہی دی گئی ہے، آئندہ اجلاس تک تمام اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور تعلیمی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسپیکر نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں واضح حکمت عملی پیش کی جائے تاکہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔ خصوصی کمیٹی کا آئندہ اجلاس دو ہفتوں کے بعد منعقد ہوگا، جس میں تمام فریقین کی تجاویز کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ اس نوعیت کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی شامل ہے، یہ اقدام محکمہ تعلیم میں میرٹ اور شفافیت کے فروغ کے لیے ایک مؤثر اور مثبت روایت ثابت ہوگا۔