امریکی ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایران کے 34 آئل ٹینکر گزر گئے

امریکی ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایران کے 34 آئل ٹینکر گزر گئے

واشنگٹن/تہران : آبنائے ہرمز کی کامیاب ناکہ بندی سے متعلق امریکی دعوؤں کے باوجود ایران سے منسلک کم از کم 34 آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر کے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ ایک معروف امریکی مالیاتی جریدے نے تصدیق کی ہے کہ ان میں سے کم از کم 6 بحری جہاز 10.7 ملین بیرل ایرانی خام تیل لے جا رہے تھے، جس کی فروخت سے ایران کو تقریباً 910 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اس انکشاف نے امریکی ناکہ بندی کی مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ کمانڈ کے مطابق ناکہ بندی کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے 28 جہازوں کو روک کر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی تیل کی ترسیل روکنے کے لیے اپنی پوری صلاحیت استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ سمندری تجارت میں رکاوٹ ڈالنے کا بنیادی مقصد ایرانی حکومت کے اہم آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانا ہے، اور اگر کوئی ملک یا کمپنی ایران کے ساتھ خفیہ تجارت میں ملوث پائی گئی تو اس پر سخت امریکی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔